پاکستانی فورسز کے ہاتھوں بلوچوں کی نسل کشی و جبری گمشدگیوں کیخلاف بلوچستان کے علاقے حب اور نال میں روڈ بلاک دھرنے جاری ہیں جبکہ کوئٹہ و نوشکی سے تعلق رکھنے والے جبری گمشدگیوں کے شکار پانچ فیملیز آج کوئٹہ پریس کلب اور نوشکی پریس کلب میں اہم پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔
بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں بھوانی کے مقام پر لاپتہ افراد لواحقین نے ایک بار پھر احتجاجاً کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ کو دھرنا دے کر بند کر دیا ہےجو گذشتہ دن دے بند ہے۔
دھرنے کے باعث ٹریفک معطل ہوگئی ہے۔
مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ ضلع انتظامیہ سے گذشتہ ماہ کیے گئے مذاکرات اور بیس دن کے الٹی میٹم کے اختتام پر پیاروں کی بازیابی میں ناکامی کے خلاف دھرنا دے رہے ہیں۔
دھرنے میں مجموعی طور پر 6 فیملیز شامل ہیں جن میں جنید حمید،یاسر حمید،نصیر بلوچ،ندیم بلوچ،امین بگٹی و دیگر لاپتا افراد کے لواحقین بھی شامل ہیں جو اپنے لاپتہ پیاروں کی بازیابی کا مطالبہ کررہے ہیں۔
مذکورہ فیملیزکی جانب سے پچھلے مہینے حب بھوانی میں دھرنا دیا گیا تھا، جس میں مختلف لاپتہ افراد کے لواحقین نے شرکت کی تھی۔
دوسری جانب جبری گمشدگی کے شکار گریشہ کے رہائشی صابر بلوچ کی بازیابی کےلئے لواحقین نے گذشتہ روزنال میں سی پیک شاہراہ پر دھرنا دیکر ہر قسم کی ٹریفک کے لئے بند کردیا ہے جو ہنوز جاری ہے۔
سی پیک شاہراہ کی بندش سے آنے جانے والی ٹریفک رکی ہوئی ہے جبکہ مسافروں کی بڑی تعداد پھنس گئی ہے۔
صابر بلوچ کی اہلخانہ نے سی پیک روڈپر ڈاٹ کراس کے مقام پر دھرنا دیا ہواہے ۔
دھرنے میں خواتین و بچے شامل ہیں۔
واضع رہے کہ صابر بلوچ ولد علی دوست گریشہ کے رہائشی ہیں جنہیں 26 فروری 2025 کی صبح 4 بجے کراچی سے جبری لاپتہ کر دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں آج بروزجمعہ کو کوئٹہ اور نوشکی میں جبری لاپتہ بلال بلوچ ولد امام بخش (سکنہ کلی قمبرانی کوئٹہ) علی اصغر بلوچ ولد غلام علی (سکنہ کلی قمبرانی کوئٹہ)سید گل بلوچ ولد حاجی گل بلوچ( عالمو چوک کوئٹہ)،ریاض احمد مینگل (سکنہ نوشکی) اور شکیل احمد(سکنہ نوشکی) کے لواحقین بھی پریس کانفرنسز کرکے اپنے احتجاجی لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔