بلوچ یکجہتی کمیٹی کے سربراہ و انسانی حقوق کے سرگرم کارکن ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ نے کہا ہے کہ بلوچستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران جبری طور پر لاپتہ کیے گئے 4 افراد کی مسخ شدہ لاشوں کی برآمدگی انتہائی تشویشناک ہے۔
یہ بات انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں کہا ہے ۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ روز آواران سے دو افراد کی لاشیں ملی تھیں جن کی شناخت فقیر جان اور عیسیٰ بلوچ کے نام سے ہوئی تھی۔ فقیر جان کو پاکستانی فوج نے 26 ستمبر 2024 کو ان کے گھر سے حراست میں لینے کے بعد جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا جبکہ عیسیٰ کو 17 فروری 2023 کو جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ آج خضدار کے علاقے زہری سے دو مسخ شدہ لاشیں ملی ہیں جن کی شناخت عابد حسین ولد غلام حسین اور مستی خان ولد گوہر خان سکنہ زہری کے نام سے ہوئی ہے۔ دونوں کو 2017 میں پاکستانی فوج نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا تھا۔
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کا کہنا تھا کہ چند روز قبل گوادر سے جبری طور پر لاپتہ ہونے والے بشیر احمد کی مسخ شدہ لاش بھی برآمد کر لی گئی تھی باوجود اس کے کہ سکیورٹی فورسز نے اس کی گرفتاری کا کھلے عام اعتراف کیا تھا۔ اسی طرح چند روز قبل تربت میں اسرار بلوچ نامی نوجوان کی مسخ شدہ لاش برآمد ہوئی تھی۔
انہوںنے کہا کہ انسانی حقوق کی تنظیموں کو اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لینا چاہیے۔ پاکستانی فوج جبری طور پر لاپتہ افراد کو قتل کر رہی ہے اور ان کی مسخ شدہ لاشیں پھینک رہی ہے۔