بلوچ کلچرل ڈے پر ڈاکٹر نسیم بلوچ کا ساجد حسین کی گمشدگی اور موت پر اظہارِ تشویش

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

2 مارچ بلوچ کلچر ڈے کے موقع پر بلوچ نیشنل موومنٹ کے چیئرمین ڈاکٹر نسیم بلوچ نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا ہے کہ آج کا دن بلوچ قوم کے لیے محض ایک تاریخ نہیں بلکہ ایک زخم کی یاد ہے۔

انہوں نے کہا کہ 2 مارچ 2020 کو سویڈن کے شہر اپسالا میں جلاوطن صحافی ساجد حسین لاپتہ ہوئے تھےوہ صحافی جو پاکستان میں ریاستی جبر سے بچ کر یورپ پہنچا تھا، اس امید کے ساتھ کہ کم از کم وہاں اسے جینے اور بولنے کا حق ملے گا۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ کے مطابق جلاوطنی بھی اسے تحفظ نہ دے سکی۔ کئی ہفتوں تک بے یقینی، سوالات اور خوف کے بعد اس کی لاش اپسالا کی ایک دریا سے ملی۔

انہوں نے کہا کہ 2 مارچ ہر سال اس حقیقت کی یاد دہانی بن کر لوٹتا ہے کہ جبر کی پہنچ سرحدوں پر نہیں رکتی، اور جبری گمشدگی صرف بلوچستان کی تاریک گلیوں تک محدود نہیں بلکہ ایک مخالف آواز کو یورپ تک بھی خاموش کرنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ ساجد حسین صرف صحافی نہیں تھے بلکہ بلوچ قوم کے درد کے مؤرخ تھے۔ انہوں نے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو دنیا کے سامنے رکھا اور بے آوازوں کو آواز دی۔

ڈاکٹر نسیم بلوچ نے کہا کہ 2 مارچ صرف سوگ کا دن نہیں بلکہ جوابدہی کا مطالبہ ہے۔ یہ یاد دہانی ہے کہ ساجد حسین کا کیس سفارتی خاموشی یا اعداد و شمار میں گم نہیں ہونا چاہیے۔ ان کی گمشدگی اور موت کوئی انفرادی سانحہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر سلسلے کا حصہ ہے—ایسا سلسلہ جس کا مقصد اختلاف رکھنے والی آوازوں کو خاموش کرنا ہے، چاہے وہ کہیں بھی ہوں۔

بیان کے آخر میں انہوں نے عزم دہراتے ہوئے کہا کہ ساجد حسین کی آواز کو دفن نہیں ہونے دیا جائے گا۔

Share This Article