بلوچ یکجہتی کمیٹی کے گرفتار رہنماؤں کے اہلِ خانہ کی جانب سے آج کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کا اعلان کیا گیا تھا، جس کا مقصد رہنماؤں کی غیرقانونی حراست اور 23 فروری کے ہائی کورٹ کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کرنا تھا۔
عدالت نے تین ماہ تک محفوظ رکھنے کے بعد ضمانت کی درخواست مسترد کر دی اور مقدمہ اسی جج کے سامنے چلانے کا حکم دیا، جس پر ہمیں اعتماد حاصل نہیں۔
پریس کانفرنس کے لیے پریس کلب ہال کے استعمال کی اجازت طلب کی گئی، تاہم متعدد کوششوں کے باوجود انتظامیہ نے اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ اس کے بعد اہلِ خانہ نے پریس کلب کی عمارت کے باہر پریس کانفرنس کرنے کا فیصلہ کیا۔
پریس کانفرنس کے دوران پولیس اہلکاروں نے میڈیا کوریج میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی اور صحافیوں کو پیچھے دھکیل کر تقریب کو منتشر کرنے کی کوشش کی۔ اس رویے نے نہ صرف اہلِ خانہ کو ہراساں کیا بلکہ آزادیِ اظہار اور پریس کی آزادی پر بھی سنگین سوالات اٹھا دیے۔
تمام تر دباؤ اور رکاوٹوں کے باوجود اہلِ خانہ نے پریس کانفرنس جاری رکھی اور اپنے مؤقف پر ثابت قدم رہے۔ یہ صورتحال ملک میں ایک ایسے ماحول کی عکاسی کرتی ہے جو عملی طور پر غیر اعلانیہ مارشل لا سے کم نہیں، جہاں پرامن پریس کانفرنس تک کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
ہم بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ پاکستان میں بنیادی شہری و انسانی حقوق کی اس کھلی خلاف ورزی کا فوری نوٹس لیں اور ریاستی جبر کے اس سلسلے پر پاکستان کو جوابدہ ٹھہرائیں۔
ہم واضح کرتے ہیں کہ اس طرح کی پابندیاں، دھمکیاں اور جبر بلوچ قوم کو انصاف کے مطالبے سے پیچھے نہیں ہٹا سکتے۔ حق اور سچ کی جدوجہد جاری رہے گی۔