نصیر آباد، سبی وتربت میں پاکستانی فورسز اور سرکاری دفاتر پر حملے

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے نصیر آباد، سبی اور تربت میں پاکستانی فورسز اور سرکاری دفاتر پر مسلح افراد کے مربوط حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

نصیر آباد سے اطلاعات ہیں کہ ڈیرہ مراد جمالی میں نامعلوم مسلح افراد نے بھاری ہتھیاروں سے فورسز کے کیمپ پر حملہ کیا، حملے کے دوران علاقے میں شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔

واقعے میں نقصانات سے متعلق کوئی مصدقہ معلومات تاحال موصول نہیں ہوئی ہیں۔

ادھر سبی کے نواحی علاقے ڈھاڈر میں پولیس تھانہ ڈھاڈر کی حدود میں واقع لوکل گورنمنٹ ڈھاڈر کے دفتر پر نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے دستی بم سے حملہ کیا، جو زوردار دھماکے سے پھٹ گیا۔

پولیس کے مطابق دستی بم کے دھماکے سے دیوار اور دفتر کے کچھ حصے کو جزوی نقصان پہنچا، تاہم کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

واقعے کے بعد حملہ آور فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے، جبکہ پولیس اور سیکورٹی فورسز موقع پر پہنچ کر علاقے کا گھیراؤ کرتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

دریں اثنا ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے علاقے آپسر میں فورسز کی ایک گاڑی کو بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق ایف سی کی گاڑی معمول کے گشت پر آپسر سے گزر رہی تھی کہ اسی دوران بم دھماکا ہوا، جس کے بعد فورسز کی جانب سے فائرنگ کی گئی۔

حکام کا کہنا ہے کہ واقعے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم دھماکے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔ فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا، تاہم کسی گرفتاری کی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

انتظامیہ کے مطابق علاقے کی سیکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے اور حملہ آوروں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری ہے۔

Share This Article