ایران کے ڈرون و میزائل حملے جاری ہیں ،تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بحرین میں امریکی فضائی سعودی عرب کے دارلحکومت ریاض میں امریکی سفارت خانے پر ڈرون حملے کئے گئے ہیں۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب سے منسلک میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ بحرین کے علاقے شیخ عیسیٰ میں واقع امریکی فضائی اڈے کو ڈرون اور میزائل حملوں میں شدید نقصان پہنچا ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق حملے میں امریکی کمانڈ سینٹر کو نشانہ بنایا گیا اور اس کی تباہی کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
دوسری جانب بحرین میں امریکی بحری اڈے پر بھی ایرانی ڈرون حملوں سے تنصیبات کو نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، جس کے بعد امریکی اہلکاروں کو علاقے سے نکالنے کی ہدایات جاری کی گئیں۔
امریکہ نے تاحال بحرین میں فضائی اڈے کی تباہی کے ایرانی دعوے پر کوئی باضابطہ ردِعمل نہیں دیا۔
سعودی دارالحکومت ریاض کے سفارتی علاقے میں منگل کی صبح زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جس کے بعد امریکی سفارت خانے کی عمارت سے دھواں اٹھتا دیکھا گیا۔
سعودی وزارتِ دفاع نے تصدیق کی کہ سفارت خانے کو دو ڈرون حملوں نے نشانہ بنایا، جس سے عمارت میں محدود آگ اور معمولی مادی نقصان ہوا۔
عینی شاہدین کے مطابق سفارتی کوارٹر میں سیاہ دھوئیں کے بادل دیکھے گئے، جبکہ امریکی مشن نے ریاض، جدہ اور ظہران کے لیے شیلٹر اِن پلیس نوٹیفکیشن جاری کیا ہے۔
دوسری جانب ریاض میں ایرانی حملے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ریاض میں امریکی سفارت خانے پر حملے کا جلد جواب دیا جائے گا۔
کیبل نیٹ ورک ’نیوز نیشن‘ کی صحافی کیلی میئر نے ایکس پر لکھا کہ ٹرمپ نے انھیں یہ بھی کہا ہے کہ ’وہ نہیں سمجھتے کہ ایران کے اندر فوجیں اتارنے کی ضرورت پیش آئے گی۔‘
امریکی محکمۂ خارجہ نے خطے میں بڑھتے ہوئے خطرات کے پیشِ نظر امریکی شہریوں کو مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر ممالک سے فوری طور پر نکل جانے کی ہدایت کی ہے۔
یہ ہدایت بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل، غزہ، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن میں موجود امریکیوں پر لاگو ہوتی ہے۔
امریکی حکام کے مطابق ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتے ہوئے حملوں کے باعث خطے میں فضائی سفر شدید متاثر ہے اور متعدد ہوائی اڈے بند ہیں۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کی تعداد چھ ہو گئی ہے۔
سینٹ کام نے بتایا کہ ایران کے ابتدائی حملوں میں نشانہ بننے والی ایک تنصیب سے دو لاپتہ فوجیوں کی باقیات برآمد کر لی گئی ہیں، جبکہ بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیاں جاری ہیں۔
خطے میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے، اور سفارتی و عسکری تنصیبات پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔