پاکستان کے صدر آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب میں کہا ہے کہ طالبان رجیم نے ریڈ لائن کراس کی، پھر دیکھا پاکستان کا رد عمل کیسا ہوتا ہے، ہماری بہادر افواج نے معرکہ حق میں بھارتی حملے کو تاریخی فتح میں بدل دیا، ملکی خود مختاری اور آئین کی حکمرانی ترجیح ہے۔
پیر کو نئے پارلیمانی سال کے آغاز پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا۔
اجلاس کے آغاز پر قومی ترانہ بھی پڑھا گیا۔
پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں صدرمملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم شہبازشریف نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری اور آصفہ بھٹو زرداری بھی شریک ہوئیں۔
اس کے علاوہ بلوچستان سمیت دیگر صوبوں کے گورنر، وزرائے اعلیٰ بھی گیلری میں موجود تھے۔
سینیٹ میں ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور دیگر جب کہ حملہ آوروں کے حملوں میںہلاک افراد کے درجات کی بلندی کی دعا کی گئی۔
اس موقع پر پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ بطور صدر نویں بار پارلیمان سے خطاب کرنا ان کے لیے اعزاز ہے۔
انہوں نے کہا کہ قوموں کا امتحان صرف بحرانوں میں ہی نہیں بلکہ اہم موڑ پر بھی ہوتا ہے اور پاکستان نے ہر چیلنج کا ثابت قدمی سے سامنا کیا ہے۔
صدر مملکت نے کہا کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے قوم کو ایک متفقہ آئین دیا جب کہ بینظیر بھٹو نے قربانی اور مثالی قیادت سے جمہوری عمل کو مضبوط کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کی بالادستی پر ان کا ایمان محض الفاظ تک محدود نہیں، گزشتہ دور میں یکطرفہ طور پر صدارتی اختیارات پارلیمنٹ کو واپس کیے گئے اور اٹھارویں ترمیم کے ذریعے صدر کا منصب وفاق کی وحدت کی علامت بنا۔
آصف زرداری نے مزید کہا کہ ملکی خودمختاری کا تحفظ اور آئین کی حکمرانی اولین ترجیح ہے، صدر کا منصب اکائیوں کے درمیان پل اور آئینی قوانین کا نگہبان ہے۔ گزشتہ دس ماہ کے دوران قوم نے پیچیدہ چیلنجز کا سامنا کیا جب کہ 2025 پاکستان کے لیے فیصلہ کن موڑ ثابت ہوا۔
صدر مملکت نے کہا کہ 26 فروری کو طالبان رجیم نے مغربی سرحد پر حملے کیے اور ریڈ لائن کراس کرنے پر پاکستان کے ردعمل نے واضح پیغام دیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ بھارت نے افغانستان کے ذریعے پراکسی کارروائیوں میں اضافہ کیا تاہم پاکستان ایک ذمہ دار ایٹمی ریاست ہے۔ معرکہ حق میں بھارتی فوج کو تاریخی شکست ہوئی اور کسی دراندازی کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ کالعدم ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے حملے ناقابل برداشت ہیں، عسکریت پسندوں کے خلاف مسلح افواج کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں اور شہداءنے ملکی استحکام کے لیے عظیم قربانیاں دی ہیں۔ دونوں سرحدوں پر بلااشتعال حملوں کے جواب میں افواج پاکستان نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا۔
صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ سیاسی قیادت متحد اور قوم ثابت قدم رہی، نڈر سپوتوں کی بہادری کی بدولت آج ملک محفوظ ہے۔ پاکستان مسئلہ فلسطین پر اصولی موقف رکھتا ہے اور جب بھی قومی خود مختاری کو چیلنج کیا گیا، پاکستان نے مضبوط عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہیں اور بوقت ضرورت اپنا دفاع کرنا جانتے ہیں۔