راولپنڈی سے پاکستانی فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ 10 بلوچ طالب علم بازیاب

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر اور پاکستانی فو ج کے ہیڈ کواٹرراولپنڈی سے فوج و خفیہ اداروں کے ہاتھوں جبری طور پر لاپتہ کئے گئے 10 بلوچ طالب علم بازیاب ہوگئے۔

مذکورہ طلبا کو 31 اکتوبر کو آئی جے پی میٹرو سٹیشن راولپنڈی کے قریب ان کے رہائشی اپارٹمنٹ سے جبری لاپتہ کیا گیا تھا۔

لاپتہ طالب علموں میں سلیم عارف ولد عارف علی ساکن تربت بی بی اے چھٹے سمسٹر کے طالب علم، بالاچ فدا ولد فدا احمد ساکن تربت بی بی اے 8ویں سمسٹر کا طالب علم، خدا داد ولد عبدالقادر ساکن تربت دشت دادے آئی آر آٹھویں سمسٹر کا طالب علم، خلیل احمد ولد سومار ساکن آواران تیرتیج آئی آر ساتویں سمسٹر کا طالب علم، خلیل احمد ولد اقبال ساکن ڈندر تربت آئی آر آٹھویں ویں سمسٹر کا طالب علم، حمل حسنی ولد سید محمد ساکن آواران آئی آر ساتویں سمسٹر کا طالب علم، بابر عطا ولد عطا ساکن پنجگور آئی آر ساتویں سمسٹر کا طالب علم، نور مہیم ولد مہیم ساکن پنجگور آئی آر پانچویں سمسٹر کا طالب علم، افتخار اعظم ولد محمد اعظم ساکن آواران ایجوکیشن ساتویں سمسٹر کا طالب علم اور احسام ولد اکبر ساکن پنجگور شامل تھے ۔

ذرائع کے مطابق جبری لاپتہ تمام طلباء بازیاب ہوچکے ہیں ۔

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں مذکورہ طلبا کی بازیابی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنے 10 بلوچ طلباء کی رہائی کا پرتپاک خیرمقدم کرتے ہیں جنہیں پاکستانی فورسز نے جبری طور پر لاپتہ کرنے کے بعد راولپنڈی سے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔ اس پیش رفت سے راحت ملتی ہے، لیکن بلوچ عوام کے خلاف جاری، منظم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی ایک واضح یاد دہانی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد جبری گمشدگیوں کے گھناؤنے عمل کی شدید مذمت کرتا ہے، جو انسانی حقوق، بنیادی آزادیوں اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ استثنیٰ ختم ہونا چاہیے۔

واضع رہے کہ مذکورہ طلبا کی گمشدگیوں کیخلاف بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل اسلام آباد نےآج بروز پیر کو اپنے پیپرز اور کلاسز بائیکاٹ سمیت کالجز کے سامنے دھرنا کیمپ لگا نے کا اعلان کیا تھا۔

بلوچ اسٹوڈنٹس کونسل کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ ہماری حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ ہم اپنی منظم نسل کشی کے خلاف خاموش نہیں رہ سکتے اور ہم اس وقت تک مزاحمت کریں گے جب تک ہمارے تمام ساتھیوں کو بحفاظت رہا نہیں کر دیا جاتا۔ ہم سب سے درخواست کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھیوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے ہمارے کلاس بائیکاٹ اور دھرنا کیمپ میں شامل ہوں۔

یاد رہے کہ پنجاب اور کراچی سے رواں سال درجنوں بلوچ طالب علم جبری گمشدگی کے شکار ہوئے ہیں ۔

بلوچ طلباء رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ریاستی سیکورٹی ادارے بلوچ شناخت پر طلبہ کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنارہے ہیں ۔

Share This Article
Leave a Comment