پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں گذشتہ روزامام بارگاہ پر ہونے والے خود کش حملے کی ذمہ داری اسلامک اسٹیٹ پاکستان صوبہ (آئی ایس پی پی) نے قبول کیا ہے ۔
اپنے آفیشل چینل پر تنظیم کی جانب سے خودکش حملہ آور کی تصویر بھی جاری کردی ہے۔
اپنے بیان میں داعش نے حملہ آور کی شناخت سیف اللہ انصاری کے طور پرکردی ہے۔
یاد رہے کہ مذکورہ خودکش بم دھماکے میں کم از کم 31 افراد ہلاک اور 169 دیگر زخمی ہو گئے ہیں۔
دوسری جانب پولیس نے حملے کی منصوبہ بندی اور معاونت کے الزام میں اب تک کم از کم 4 افراد کو حراست میں لنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق گرفتار کیے جانے والوں کا حملہ آور کے ساتھ قریبی تعلق تھا۔ حراست میں لیے جانے والے والےچاروں افراد کو نامعلوم مقام پر منتقل کیا گیا ہے۔
جبکہ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے حملے کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب میں کہا ہے کہ اسلام آباد کی امام بارگاہ میں خودکش حملہ کرنے والے دہشت گرد سے متعلق تفصیلات سامنے آ چکی ہیں۔
ان کے مطابق ’یہ خودکش حملہ آور افغان شہری تو نہیں تھا۔ لیکن اس کے اعضا کے فرانزک کے بعد یہ تفصیلات ملی ہیں کہ وہ کتنی بار افغانستان گیا۔‘
ایک اور بیان میں پولیس نے دعویٰ کیا کہ خود کش حملے کے سہولت کاروں کی گرفتاری کے لیے خیبرپختونخوا کے ضلع نوشہرہ میں چھاپے کے دوران مسلح افراد سے جھڑپ ہوئی ہے جس میں ایک پولیس اے ایس آئی اور مسلح شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔