پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے شمالی وزیرستان اور بلوچستان کے علاقے دکی میں پاکستانی فورسز پر 2 حملوں میں اہلکاروں سمیت 8 افراد ہلاک ہوگئے۔
شمالی وزیرستان میں سیکیورٹی فورسز کی ایک چیک پوسٹ پر خودکش حملے کے نتیجے میں اہلکاروں سمیت کم از کم8 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔
سرکاری طور پر جاری کردہ بیانات کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں 4 پولیس اور 2 فوجی اہلکاروں کے علاوہ2 سویلین بھی شامل ہیں۔
خود کش حملے میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔
مقامی انتظامیہ اور پولیس عہدیداروں کے مطابق خودکش حملہ شمالی وزیرستان کے دوسرے بڑے قصبے میرعلی سے ملحقہ گاؤں عیدک میں واقع اسلم چیک پوسٹ پر ہوا ہے۔
حملہ آوروں کا نشانہ چیک پوسٹ میں موجود اہلکار اور سیکیورٹی فورسز کی گاڑیاں تھی۔
خودکش بمبار یا بمباروں کے ساتھ مسلح عسکریت پسند بھی موجود تھے جنہوں نے سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں پر کافی دیر تک فائرنگ بھی کی۔
ابتدائی اطلاعات اور تحقیقات کے مطابق حکام کا کہنا ہے کہ خود کش حملہ رکشے کے ذریعے کیا گیا۔
میر علی اسپتال کے ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اسپتال لائے گئے زخمیوں میں سے کئی کی حالت تشویش ناک ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
خود کش دھماکے کے بعد شمالی وزیرستان کے مرکزی انتظامی شہر میران شاہ اور دیگر علاقوں میں تعینات سیکیورٹی فورسز کے اہلکاروں نے جائے وقوعہ پہنچ کر علاقے کا محاصرہ کرلیا۔
دوسری جانب بلوچستان کے علاقے دکی میں فورسز کے گاڑی کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا ہے۔
فورسز کی گاڑی کو دکی مندے ٹک کے مقام پر نشانہ بنایا گیا ہے۔
حملے کی تصدیق پولیس نے کرتے ہوئے بتایا کہ کیو آر ایف کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
پولیس نے حملے میں 3 اہلکاروں کی زخمی ہونے کی تصدیق کردی ہے۔
ؤاضع رہے کہ گذشتہ روزخیبر پختوانخوا کے علاقے خیبر اور لکی مروت سمیت پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں ملٹری فورسزپر 3 مختلف حملوں میں 7 اہلکار ہلاک ہوگئے۔