پاکستان بھر میں سیکورٹی فورسز پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔بلوچستان وخیبر پختونخوا میں فورسز پر حملے روز کا معمول ہیں اب دارلحکومت سمیت فورسز کے گڑ ھ سمجھے جانے والے علاقوں میں بھی فورسز کو نشانہ بنایا جانے لگا ہے۔
گذشتہ روزخیبر پختوانخوا کے علاقے خیبر اور لکی مروت سمیت پاکستان کے دارلحکومت اسلام آباد میں ملٹری فورسزپر 3 مختلف حملوں میں 7 اہلکار ہلاک ہوگئے۔
خیبر ضلع کے سرحدی علاقوںتیراہ ذخہ خیل اور شلوبر ڈونگہ علاقے میں فورسز اورمسلح افر اد کی مابین فائرنگ کے تبا دلے میں 5 سیکورٹی اہلکار ہلاک اور 4زخمی ہوئے ہیں۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق 5 سیکورٹی اہلکار ہلاک اور 4 زخمی ہیں۔جبکہ حملہ آوروں کی بھی ہلاکت کا دعویٰ کیا جارہا ہے۔
دوسری جانب خیبر پختونخوا کے ضلع لکی مروت میں نماز کی ادائیگی کے دوران مسجد پر مسلح افراد کے حملے میں پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں زیر تربیت کیڈٹ عارف اللہ ہلاک ہوگیا۔
حکام کا دعویٰ ہے کہ مسلح افرادنے نماز مغرب کی ادائیگی کے دوران لکی مروت کی ایک مسجد پر حملہ کیا، اس دوران ملٹری اکیڈمی کاکول کے زیر تربیت کیڈٹ عارف اللہ نے حملہ آرو ں کا مقابلہ کیا۔
دعوے میں کہا گیا کہ مسلح افرادسے مقابلے کے دوران بہادری سے لڑتے ہوئے 19 سالہ عارف اللہ نے ہلاک ہوگئے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ عارف اللہ کا تعلق لکی مروت تھا، پاکستان ملٹری اکیڈمی میں زیر تربیت تھے، جی سی عارف اللہ چھٹیاں گزارنے کے لیے اپنے گھر آئے ہوئےتھے۔
دریں اثنا سلام آباد میں فائرنگ کے واقعے میں پولیس سب انسپکٹر حیدر شاہ ہلاک ہو گئے۔
اسلام آباد پولیس کے مطابق حیدر شاہ کو گھر کے قریب کار سوار مسلح ملزمان نے نشانہ بنایا۔
پولیس کے مطابق سب انسپکٹر حیدر شاہ سی آئی اے پولیس میں تعینات تھا۔
ترجمان اسلام آباد پولیس کے مطابق آئی جی اسلام آباد نے سب انسپکٹر حیدرعلی شاہ کے قاتلوں کی گرفتاری کا حکم دیدیا ہے جبکہ ملزمان کی گرفتاری کیلئے خصوصی ٹیمیں بھی بنادی گئیں ہیں۔