آئرن لیڈی | ڈاکٹر جلال بلوچ

0
56

’’یہ میری سرزمین ہے اور میں ہی اس کی وارث ہوں۔‘‘
یہ الفاظ اس بلوچ بیٹی کی ہیں جنہوں نے ہوش سنبھالنے سے قبل اپنے والد کی مسخ شدہ لاش دیکھی۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ، کامریڈ غفار بلوچ کی نڈر بیٹی، دشمن کی قید میں ان کی آنکھوں میں آنکھیں ملا کر استقلال کے ساتھ بالا الفاظ دھراتی ہے۔(کتاب ’’عورت اور سماج‘‘ سے اقتباس۔)

یہ مٹی اتنی زرخیز ہے کہ اس نے ہر دور میں ایسے کردار جنمے ہے، جن کے کارنامے دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ کوئی اساطیری داستان پڑھ رہا ہوں جس میں ان کرداروں کو اس قدر بڑھا چڑھا کر پیش کیا گیا ہے کہ ان پہ دیوی اور دیوتا کا گمان ہوتا ہے۔ اب ذرا سوچیئے کہ کل کا قاری ان کرداروں کو کس طرح پرکھے گا، کیا وہ ان کرداروں کے بارے میں پڑھنے کے بعد خود سے بار بار یہ سوال نہیں کرے گا کہ یہ کیسے ممکن ہوا کہ وہ سماج جہاں بڑے بڑے سردار اور زردار جنہیں سرکار کی بھی مکمل مدد و تعاون حاصل ہو، وہ یا ان کے اجداد قابض کے ایوانوں میں (زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں بلکہ اسی نظام، پاکستانی قبضہ گیریت) گزشتہ سات دہائیوں سے گدی نشین ہوں، اور سماجی گدی پہ تو قابض کے چہتے صدیوں سے براجمان ہوں۔ اب بلا ایسے معاشرے میں کوئی چاندنی رنگت کیسے بکھیر سکتی ہے کہ اس نور سے اندھوں کے لیے راستہ تلاش کرنا چنداں مشکل نہ ہو۔ اور وہ بھی عام بلوچ گھرانے کی ایک نوجوان لڑکی۔

کتاب کے ہر پیرائے پہ وہ رک رک کر سوچتا ہوگا کہ یہ کیسے ممکن ہوا کیوں کہ وہ ساحرہ بھی نہیں تھی کہ ’’پھونک دیا اور پھر سب ہڑنچو‘‘ تو وہ کونسی طاقت تھی کہ اس کردار نے وقت کے فرعون اور اس کے حواریوں کی سب عیاری عالم میں بسنے والے ہر بشر کے سامنے افشا کردیا۔ ماہ رنگ کے عہد کے مظالم کی داستان پڑھ کر یقیناً وہ سوچتا ہوگا کہ ایسے حالات میں چہرے پہ سدا مسکان کیسے ممکن ہے، جہاں بچپن میں یتیم ہونا اور ازاں بعد ہزاروں خاندانوں کا درد دل میں لیے، موسموں اور راستوں میں تمیز کیے بغیر مسلسل جانبِ منزل محو سفر ہونا۔ حقیقت پہ مبنی لیکن نا قابلِ یقین۔۔۔یقیناً ناقابل یقین۔ اور ایسے ہی ناقابل یقین کارناموں کی بدولت یہ ہستیاں منفرد مقام کے حامل گردانے جاتے ہیں۔

جس طرح ہم کاوا آہن گر کے بارے میں پڑھتے ہیں کہ یہ کیسے ممکن ہوا کہ ایک بلوچ لوہار "ضحاک”(آخری پیشدادی حاکم) جیسے عظیم طاقت کے مالک حاکم کو شکست دیتا ہے، یا پھر رستم کے قصے۔۔۔ کاوا آہن گر، رستم، حتیٰ کہ بانڑی، مائی بیبو اور گل بی بی جیسے کرداروں کا مطالعہ کرنے کے بعد مجھے بھی یقین نہیں آتا تھا اور خود سے کہتا تھا کہ یہ فقط افسانوی داستانیں اور قصے کہانیاں ہیں اس سے زیادہ اور کچھ نہیں۔ لیکن آج ماہ رنگ کو دیکھ کراس بات پہ کامل یقین ہوچکا ہے کہ نہیں لورستان کا کاوا لوڑی یا کاوا آہن گر کی جدوجہد بھی حقیقت پہ مبنی تھا، رستم سیستانی بھی فردوسی کی داستان کا حقیقی ہیرو ہے، مائی بیبو ہماری تاریخ کو چار چاند لگا نے میں بنیادی کردار کا حامل رہی ہے، حانی کی بدولت ہی ترکوں کو شکست ہوئی، بانڑی نہیں ہوتی تو سوریوں کے خلاف مغل لشکر کی کامیابی ایک خواب بن کے رہ جاتا، گل بی بی سرحدی شیرنی جس نے اپنے وقت کے سب سے سفاک انسان جنرل ڈائر کو بھی اپنی بہادری کی داستان رقم کرنے پہ مجبور کیا۔ ان جیسے سینکڑوں کردار گل زمینِ بلوچ پہ گزرے ہیں اور انہی کے کارناموں کی بدولت تاریخ نہ صرف زندہ ہے بلکہ ان کے آل سے آج بھی لوگ جنم لے رہے ہیں اور ان سے بڑھ کر، ہاں ان سے بڑھ کر کارہائے نمایاں سرانجام دے رہے ہیں کہ آج کا ضحاک ظلم و جبرروا رکھنے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا، لیکن اس کے باوجود بھی ماہ رنگ جیسی ہستیاں استقلال کا استعارہ بن چکی ہیں۔

ماہ رنگ جو نہ صرف اپنے ہی قوم کے لیے روشنی کا مینارہ بن چکی ہے بلکہ اس چاندنی سے پھوٹنے والی روشنی میں ہرقوم کو اپنی منزل دکھائی دے رہی ہے اسی لیے تو خطے میں بسنے والے بلوچ، پشتون، سندھی حتیٰ کے دیگر زبانوں میں بھی جو سنگیت سنائی دے رہی ہے ان میں نامِ ماہ رنگ سب سے نمایاں ہے اور اس عہد میں یہ اعزاز فقط ماہ رنگ کو ہی جاتا ہے کہ آج ہر محکوم اس پہ نازاں ہے۔

ایک جانب محکوم اقوام اور انسان دوست حلقے ماہ رنگ کی جدوجہد کی داد دیتے نظر آرہے ہیں تو دوسری جانب قابض ریاست کی پوری مشینری ایک لڑکی سے پوری طرح خوف زدہ ہے۔ اسی خوف نے قابض کے اوسان خطا کردیے اسی لیے تو اس کا ہر عمل اس کے لیے زہرہلال ثابت ہورہا ہے وہ چاہے سرفراز بگٹی کے چند دن قبل کے بیانات ہوں، یا جان اچکزئی کا نابالغ بیانیہ، یا پھر اس ملک کی سب سے بڑی گدی نشین انوارالحق کاکڑ کی بوکھلاہٹ، ازاں بعد عسکری اداروں کا ڈیتھ سکواڈ کے کارندوں کو ان کے روبرو بٹھانا کہ شاید ہمت ہار جائے لیکن کہاں۔۔۔ وہاں تو الگ تماشا شروع ہوچکا جو ان کی جگ ہنسائی کے لیے کافی ہے کہ اب لاہوری شکورے بھی رئیسانی کا لبھادہ اوڑھ چکا ہے اور اس پہ نیارے اس کا زرد میڈیا جو اس مسئلے کو کال کھوٹریوں کی نظر کرنے کی حتیٰ الوسع کوششیں کیں لیکن اس کی ہر چال اس کے گلے کا طوق بنتا گیا۔ اے ماہ رنگ تو نے آج اس غیر فطری ریاست کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آشکار کرکے دنیا کو بتا دیا کہ یہ قوم حکمرانی کا اہل ہی نہیں۔

کہتے ہیں کہ اگر نظریہ اور فکر کامل ہو تو جس جانب چل پڑوگے کامیابی تمہارے قدم چھومنے والہانہ استقبال کے لیے تم سے قبل وہاں ڈیرے جمائے منتظر ہوگا ۔ یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہوا یہ آئرن لیڈی جہاں رخ کرتی لوگ دیوانہ وار اس پہ پھول نچاور کرتے۔ اس پورے سفر کی تصویریں اور ویڈیوز جو مناظر پیش کررہے ہیں انہیں دیکھ کبھی کبھار تو ایسا گمان ہوتا ہے کہ مہر گڑھ کی کوئی دیوی لوگوں کے دکھوں کا درمان لیے ان کے جلو میں موجود ہے اور لوگ اس کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے بیتاب، بیتابی کیوں نہ ہو، قابض کی جارحیت کی وجہ سے ہر کوئی یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ ظلمتوں کے یہ بادل اتنے گھنے ہیں کہ انہیں آفتاب بھی چیر نہیں سکتا۔ حالات تو شاید ایسے ہی تھے کہ برطانوی دور سے تقسیم در تقسیم اور قومی محکومی کسی عذاب سے کم نہیں لیکن اس ناممکن یا انتہائی مشکل امر کو انینا دیوی نا جانے کیا نام دوں اس چاندنی کو، میرے خیال سے ماہ رنگ ہی مناسب ہے کہ وہ انینا دیوی سے بڑھ کر مقبول ہوچکی ہے اور کارنامے بھی اساطیری داستانوں کی دیویوں سے بڑھ کر ہیں کہ اب اس آئرن لیڈی نے پوری بلوچ قوم کو ایک ہی لڑی میں پرونے کے ساتھ ساتھ خطے میں بسنے والے محکوموں کو وہ روشنی عطا کیا جس میں نابینوں کو بھی منزل دکھائی دے رہی ہے۔

٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here