ذمہ دار کون!؟ |عمران ثاقب

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی کی تحریک بلوچ عوام کی ریاستی زیادتیوں کے خلاف احتجاج اور عزت سے جینے دینے کی مانگ ہے، مگر اسی تحریک کو اگر ریاستی عینک سے دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ تب بھی یہ غلط نہیں بلکہ پاکستانی تاریخ میں قانون کی بالادستی اور عدلیہ کے وقار کی بحالی کی سب سے حقیقی تحریک بھی یہی عام بلوچ چلارہے ہیں۔ مظلوم ہیں ، اپنے جبری گمشدہ پیاروں کے درد سے بےحال ہیں عدلیہ کے کردار سے مایوس ہیں مگر پھر بھی اسی ریاستی فریم ورک کو ہی جھنجھوڑ رہے ہیں کہ اپنے ملکی قوانین کی کچھ تو پاسداری کرو، وہ الگ بات ہے کہ اس تحریک کو پاکستانی وکلا اور ججز کی قطحا سپورٹ حاصلِ نہیں اور یہ انتہائی حیران کن امر ہے کہ پاکستانی ججز اور وکلا کو اپنے ہی وقار کی بحالی اور عدلیہ کی خودمختاری میں دلچسپی نہیں۔

کیا ڈیمانڈ ہے اس تحریک کی!؟ یہی نا کہ کسی بھی شخص کو ماورائے قانون غائب نہ کیا جائے، اگر سیکیورٹی اداروں کو لگتا ہے کہ کوئی فرد ریاست مخالف سرگرمی میں ملوث ہے تو اُسے اپنی ہی عدالتوں میں پیش کیا جائے مقدمہ چلایا جائے اور جو لوگ غائب کئے گئے انہیں بازیاب کیا جائے، گھر والوں کو ان سے ملنے دیا جائے ، مسخ شدہ لاشیں پھینکے کا سلسلہ بند کیا جائے۔، یہ کوئی انوکھے ڈیمانڈز تو نہیں نہ ہی ملک دشمن نعرے ہیں بلکہ یہ تو آپ کو آپ ہی کے آئین و قوانین کی پاسداری کی یاددہانی ہے جس پر آپ اس قدر بپھرے ہوئے ہیں کہ اُن کی جمہوری تحریک کو کچلنے کے درپے ہیں۔

گوادر میں 28 جولائی کو ہونے والی "بلوچ راجی مُچّی” کے خلاف ایسے متحرک ہوگئے ہیں کہ سندھ و بلوچستان میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے کارکنوں کی گرفتاریوں کا نیا سلسلہ شروع کردیا ہے، بلوچ عوام کو اس راجی مُچی میں شرکت سے روکنے کی ترکیبیں بنانے میں مصروف ہوگئے ہیں، آخر یہ سب کیوں کیا جارہا ہے، ایسا کیا خطرہ ہے ارباب اختیار کو بلوچ یکجہتی کمیٹی کے اس جمہوری، آئینی و سیاسی عمل سے!؟ جبکہ ہم نے دیکھا ہے کہ اسی گوادر میں جماعت اسلامی کے صوبائی منتظم اعلیٰ نے بھی تو عوامی ریلیاں نکالی تھیں دھرنے دیئے تھے تب تو اپ غصہ نہیں ہوئے ، اب کیا مسئلہ ہے، مولانا ہدایت کو اجازت ہے تو ماہ رنگ و سمّی کو کیوں نہیں۔۔ کیا اس لئے کہ یہ "بلوچ” کے تحفظ و ایکتا کی بات کرتے ہیں ، 77 سالوں میں یہ ریاست ، بلوچ سرزمین کے وسائل سے کھربوں لے چکی ہے تو کیا ریاست اسے جینے کا حق دینے کو بھی راضی نہیں!؟

یاد رکھیں درد دبانے سے اور زخم چھپانے سے ختم نہیں ہوتے ، ماؤں کے بچّے غائب کرنے سے لاشیں پھینک دینے سے آپ کچھ بھی حاصل نہیں کررہے ماسوائے لوگوں کے دلوں میں مزید نفرتیں بونے کے اور انسانی نفسیات ہے کہ نفرت اپنی راہ تلاشتی ہے دیگر مظلوموں سے جُڑتی ہے اگلی نسلوں میں منتقل ہوتی ہے پھر اور زیادہ مظبوط ہوکر ابھرتی ہے ، ظلم و جبر سے حقوق کی تحریکیں کچلنے، لاپتہ کرنے اور مسخ شدہ لاشیں پھینکنے سے آپ اپنی ریاست کو مضبوط نہیں کر رہے بلکہ اسکی شکل مسخ کر رہے ہیں بلکہ کرچکے ہیں ، عام لوگوں پر زندگی تنگ کرنے اُنہیں مارنے سے ریاست اپنی تندرستی کھو دیتی ہے اور مظالم یونہی جاری رہے تو ریاستیں بلآخر بکھر جاتی ہیں۔ دنیا میں کہیں بھی ایسا کوئی سانحہ رونما ہوتا ہے تو اس کی ذمہ داری مظلوم پر نہیں بلکہ ظالم پر عائد ہوتی ہے۔

٭٭٭

Share This Article
Leave a Comment