شہید سنگت شوکت بلوچ کی کچھ یادیں | گُلزار بلوچ

0
72

ہزاروں درد بھرے سرحالوں کے درمیان رہتے ہوئے جب میں اپنے قلم کو مختلف درد بھرے سرحالوں کےلیے اٹھاتا ہوں تو ہر ایک درد،ہر ایک سرحال جو مجھے اور میرے قلم کو اپنے طرف کھینچ لیتا ہے اور یہی کہہ کر کہ میں بھی ایک ابھرا ہوا یاد یا درد ہوں مجھے بھی اپنے قلم کی عنوان اور کاغذ کی زینت بنا دو۔

آج میں نے قلم اٹھایا تو ان یادوں میں سے ایک پُر مہر یاد میرے قلم کی نوک پر آیا، یہ یادیں ایک مہروان ہستی، ایک سنگت اور ایک عاشقِ گلزمین کی ہے۔ اس سنگت کی مہر و محبت سے پُر یادوں کو اور اس کی کردار کو قلم بند کرنا میرے لئے بہت مشکل ہو رہا ہے، پتہ نہیں مجھ جیسے نالائق کا قلم اس ہستی کے ساتھ انصاف کرسکے گا کہ نہیں۔

یہ سال 2016 کی بات ہے کہ جب میں چھٹی کلاس کے بعد معیاری تعلیم حاصل کرنے کےلیے بی آر سی خضدار کی جانب رخ کیا۔ بی آر سی خضدار میں عموماً طالب علموں کو ساتویں جماعت سے ایڈمیشن دیتے ہیں اور بارویں جماعت تک پڑھاتے ہیں۔ چونکہ ہم بھی ساتویں جماعت میں وہاں پڑھنے گئے تھے۔اسی دوران کالج میں ہمارے بہت سے سینئرز موجود تھے جن میں سے کوئی بارویں جماعت کا اسٹوڈنٹ تھا تو کوئی دسویں جماعت میں پڑھتا تھا اور کوئی دوسرے جماعتوں میں۔ شروع کے دنوں میں ہمیں بہت سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا جن کی وجوہات بہت سارے تھے، جن میں سر فہرست وجوہات میں سے ایک وجہ گھر سے دوری، دوسری وجہ نیا ماحول اور تیسری کالج کے حوالے سے نا واقفیت۔ یوں دن گزرتے جا رہے تھے اور سینئرز مختلف مشکلات کے حوالے سے ہمارے ساتھ ہوتے تھے۔سینئر دوست تو بہت سارے تھے،لیکن ان میں سے شوکت حکیم نامی دوست (جسے سب دوست شتکو جان کے نام سے پکارتے تھے )جو کالج کے ہر مسائل کے حوالے سے ہمارے ساتھ ہوتا تھا وہ چاہئے ہمارے پڑھائی کے حوالے سے ہو، ماحول کے حوالے سے یا دوسرے کسی چیزوں کے حوالے سے وہ ہر حوالے سے ہمارے ساتھ ہوتا رہتا تھا۔ کبھی کبھی ہم خود سوچ میں پڑھ جاتے تھے یار کالج میں اور بھی بہت سے سینئر اسٹوڈنٹس موجود ہیں لیکن ان میں سے کیوں فردِ واحد شوکت جان ان چیزوں کے حوالے سے ہمارے ساتھ ہوتا ہے۔مجھ سمیت کچھ اور بےشعور دوستوں کو شوکت جان نے سیاسی سرکلز کا حصہ بنایا اور اسی طرح بہت سے جنرل کتابیں پڑھنے کے لیے دیا۔ ہر ہفتے میں ایک دن چوری چپکے سے کبھی مسجد تو کبھی روم میں(کیونکہ بی آر سی میں سیاسی سرگرمیوں پر مکمل پابندی عائد تھا) ہمارے سرکلز ہوتے تھے، جہاں پر مختلف موضوعات زیر بحث ہوتے تھے۔ سیاسی سرگرمیوں کے علاوہ سنگت شوکت جان کھیلوں میں بھرپور حصہ لیا کرتا تھا اور خاص کر فٹبال کا ایک بہترین کھلاڑی تھا اور کالج کے فٹبال ٹیم کا بھی حصہ تھا۔

خیر یہ دن گزرتے گئے شوکت جان اپنے کلاس سمیت تعلیم مکمل کرکے بی آر سی سے رخصت ہوگئے۔ اس دورانیہ میں شوکت جان اکثر کالج آیا کرتا اور نئے نئے کتابیں لاتا تھا اور کبھی کبھار فون پر بھی حال احوال پوچھتا رہتا تھا۔جس کا پہلا اور آخری بات ہمیشہ یہی ہوتا تھا کہ آپ لوگوں کا پڑھائی کیسا ہے اور بس ہمیں اپنے پڑھائی اور سیاسی سرکلز منعقد کرنے کا تلقین کرتا تھا اور ایک دوسرے کے ساتھ باہمی تعاون اور مہر و محبت کا درس دیتا رہتا تھا۔ سچ تو یہ ہے کہ شوکت جان ہمارے لیے ایک مہروان سنگت اور خاص کر ایک سیاسی استاد سے کم نہ تھا۔ یوں تعلیمی دورانیہ گزرتا رہا اور وہ دن بھی آ گیا کہ ہم بھی کالج سے اپنے تعلیمی سفر مکمل کر کے رخصت ہوگئے۔ کالج کے بعد ایک لمبے عرصے تک شوکت جان سے کبھی حال احوال ممکن نہیں ہوسکا تھا۔ایک وجہ یہ تھا کہ شوکت جان کا نمبر بھی بند آ رہا تھا اور دوسری وجہ پھر ہم بھی علاقے میں زیادہ تر نہیں جاتے تھے۔ یہ بات کوئی ہمارے کالج سے ڈیڑھ سال فارغ ہونے کے بعد کی ہے کہ جب میں چھٹیاں گزارنے کے لیے یونیورسٹی سے واپس اپنے علاقہ گیا تو کچھ وقت گزرنے کے بعد علاقے کی کسی چراوہے سے میرا ملاقات ہوا۔ تو اس نے مجھے انتہائی حیران کن و خوش کن انداز میں کہا کہ یار آپ بہت خوش قسمت ہیں اور میں یہ سن کر اسی سوچ و بچار میں پڑ گیا کہ آخر کونسی خوش قسمتی ہے جس کا مِستائی کوئی چرواہا مجھ سے لے رہا ہے۔ پوچھنے کے بعد اس نے سارا ماجرا مجھے سنا دیا اور کہا یار کچھ دن پہلے مجھے پہاڑوں میں وطن کی محبت میں سرشار کچھ سپاہی ملے تھے۔ جن میں سے کچھ نے مجھ سے راجی (قومی) روایت کے مطابق حال و احوال کیا اور چائے پینے کے بعد دیر تک دیوان کیے پھر جاتے وقت انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ آپکے علاقے کا کوئی ایسا اسٹوڈنٹ جس نے بی آر سی خضدار سے پڑھا ہو تو میں نے فوراً آپکا نام لیا، ان میں سے کسی لاغر بدن و بلند قد و قامت کے مالک ایک محافظ نے اپنا نام و علاقہ آشکار نہ کرتے ہوئے یہی کہا کہ اس کو میرا پیغام پہنچانا کہ مجھ سے فلاں دن و فلاں جگہ پر ضرور ملاقات کے لئے آنا تو یوں اس نے بات مکمل کیا پھر میں نے اس چرواہے کو یہی کہہ کر جواب دیا نہیں سنگت ایسا کوئی شخص نہیں ہے جو اس کارواں کا حصہ ہو اور میں اُسے جانتا ہوں یا وہ مجھے۔۔۔۔۔۔

وہ وقت شاید میرے لیے ایک ایسا لمحہ تھا جس کی خوشی مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتا تھا اور وہ پیغام میرے لیے شاید اتنا زیادہ خوشی کا لمحہ تھا کہ میرے پاؤں کے نیچے سے زمین نکل رہا تھا اور میرے دل کے دھڑکن اپنے حسب معمول کے حساب سے زیادہ دھڑک رہے تھے۔ میں اسی سوچ میں مگن تھا کہ یا خدایا بس اس دن کو جلدی لانا جس میں ، میں اپنے دوست ، سنگت ،غمخوار، کالج کے زمانے سے سیاسی استاد اور سب سے بڑھ کر وطن کی عشق سے سرشار ایک سرمچار سے مل سکوں۔ بس اسی انتظار میں تھا کہ خدایا اس دن کو جلدی قریب لاؤ اور یہی دعا کرتا رہتا تھا کہ خدایا آپ کیوں ان انتظار کے دنوں کو محشر کی طرح گزار رہے ہو اور جس میں مجھے ایک دن ایک سال جیسا لگ رہا تھا اور یہی شکوہ کناں رہتا تھا کہ یا خدایا اس دن کو جلدی لے لاؤ تاکہ میں اپنے سنگت شوکت جان سے مل سکوں اور اس سے اپنے مدتوں سے دوری و زہیری کو دور کرسکوں۔

خیر دن انتظار میں گزر رہے تھے اور مقررہ دن نزدیک ہوتا جارہا تھا اور میرا زہیری بھی بڑھتا جا رہا تھا۔کبھی سوچتا کہ خدایا ایسا نہ ہو کہ ملاقات کے دوران میرے سانسیں رک نہ جائیں اور اس درمیان میں میرا وقت ضائع نہ ہو جائے۔ کبھی کھبار سوچتا تھا کہ پتہ نہیں کہ میرا سنگت اور وطن کا عاشق کیسا اور کس حال میں ہوگا اور آخر کار وہ دن پہنچ ہی گیا جس کے لیے مجھے شدتوں سے انتظار رہتا تھا اور اسی سوچوں میں گم سُم تھا کہ اپنے استاد و سنگت سے ملنے جا رہا ہوں۔ جس کے پاس خواری، سختی، اذیت و درد اور کھٹن سے کھٹن ترین جدوجُہد کا راستہ موجود ہے۔خیر جانے سے پہلے یہی سوچ رہا تھا کہ میں تو ہر چیز وہاں نہیں لے جاسکتا ہوں کیونکہ ہماری ملاقات ایک ایسی جگے پر ہورہا تھا کہ جہاں اتنے زیادہ چیزیں نہیں لے جاسکتا تھا ۔آخر کار یہی فیصلہ کر لیا کہ شوکت جان کے لیے اس کا پسندیدہ شئے ڈڈوکی( جو ایک روایتی کھانے کی چیز ہے جو دیسی گھی سے تیار کیا جاتا ہے اور مدتون تک خراب نہیں ہو سکتا )لے جاؤنگا جو مجھے اکثر کالج کے دنوں میں کہا کرتا تھا کہ یار اپنے لُمہ جان کے ہاتھوں سے بنائے ہوئے ڈڈوکی ضرور لے آنا۔ شوکت جان کالج کے دنوں میں اکثر جنرل کتابیں پڑھتا رہتا تھا تو اسی شوق کو مدنظر رکھتے ہوئے کچھ کتابوں کا ٹیکی بھی تیار کیا۔ ان تمام چیزوں کو اپنے ساتھ اٹھا کر میں اپنے منزل کی طرف محوِ سفر ہو گیا اس منزل کی طرف جہاں میں اپنے دوست اپنے سنگت اپنے وطن کے عاشق سے ملوں گا۔ ہماری یہ ملاقات راجی دفتر بولان (کعبہ) کے ایک خوبصورت مقام پر ہونے جا رہا تھا، اے کاش کہ میں یہاں شتکو جان کے ساتھ بیتے ان لمحات و یادوں کا ایک خوبصورت چیدہ قائم کر سکتا۔۔۔۔

اُف قربان ہوجاؤ، اپنے وطن کے ان پہاڑوں پر کہ کیسے دلکش اور خوبصورت ہیں اور اس خوبصورتی میں مہرستان کے محافظ بقا کی ایک خوبصورت جنگ لڑ رہے ہیں اور اس ہرنی آنکھوں والی آجوئی کے لئے کیسے کیسے قد آور سر خود کو فدا کر رہے ہیں۔کبھی کبھار اس سوچوں میں رہتا تھا کہ یار شتکو جان کیسے یہ کھٹن و پر خطر زندگی خوشی سے گزار رہے ہیں اور ایک میں، جسے نہ وطن کی درد، نہ احساساتِ مہرستان اور نہ ہی اپنے اس ںقا کی جنگ کے بارے میں کچھ شعور ۔۔۔۔

اسی سوچوں کے ساتھ منزل کی جانب رواں دواں تھا اور تیز قدموں کے ساتھ ایک تلار سے اتر کر دوسرے تلار پر چڑھ رہا تھا۔اسی سوچ میں تھا کہ ایسا نہ ہو کہ مجھے لیٹ نہ ہو جائے اور شتکو جان میرا انتظار کرکے مایوس واپس چلا نہ جائے اور کبھی یہ سوچتا کہ نہیں یار،میرا شتکو جان مجھ سے ملن کے بغیر کھبی واپس نہیں جائے گا۔وہ میرے آنے کا انتظار کرتا رہے گا کبھی سوچتا کہ ایسا نہ ہو کہ وہ نہیں آ جائے اور کبھی یہ سوچتا کہ نہیں یار وہ اپنے سنگتی کی پاسداری کر کے مجھ سے ملنے ضرور آئے گا۔میں ان ہی سوچوں میں مگن تھا اور مقررہ جگے پر پہنچ ہی گیا تھا کہ اتنے میں ایک جانی پہچانی آواز میرے کانوں میں گونجنے لگا۔

گلزار! اس تیز رفتاری سے کہاں جارہے ہو، آخر کون ہے تیرا وہ سنگت جس کے لیے تم اتنے کھٹن راستوں کا طویل سفر طے کر کے آ رہے ہو ۔۔۔۔۔۔۔۔

وہ مُسکراتے ہوئے چوٹی سے اتر کر میرے قریب آنے لگا اور قریب پہنچتے ہی مجھ سے بغل گیر ہوا پھر میں نے اس کے پیشانی اور ہاتھ پر بوسہِ مہر دیا، شنک مریو نیکن کنا ساہ۔۔۔۔۔۔

شوکت جان کے کندھے پر روسی کلاشنکوف ،سر پر خاکی کیپ ، سینے پر گولیون سے سجا ہوا امیل،سرخ آنکھیں، جن میں ہفتوں کی بے خوابی و وطن کی محبت، (مجھے آج بھی یاد ہے کہ اس کے دائیں آنکھ میں سرخی کی نشانی زیادہ تھا) اک اس کے بے نیندی میں ہزار ارمان ، ان ارمانوں کی انتہا میں آجوئی کی منزل پر پہنچنے کی ایمان۔۔۔۔اور شتکو جان کی تلار سے نیچے اترنے کا انداز، جیسے چاندنی راتوں میں پازیب پہنی ہوئی محبوبہ جو اپنے محبوب سے اس چاندنی کی نور میں ملنے جا رہی ہو۔

اسی لمحے میں ،میں اک سوچ میں مگن تھا کہ اے خدایا وقت کی ڈور کو ذرا روک دو ذرا میں اپنے شتکو جان کی دیدار کرتا رہوں اور اس سے اپنے مہرستان پر ڈھائے گئے مظالم کی داستان سن سکوں اور اس کے عظیم فکر سے سرشار ہو کر اس سے اپنے زمین پر قربان ہونے کی درس سیکھ سکوں ۔۔۔

وہ مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ قربان لگ رہا ہے کہ آپ تھکن کی وجہ سے صحیح بات نہیں کر پا رہے ہو اور میں نے گہری سانس لیتے ہوئے جواب دینے لگا کہ نہیں شتکو جان بس ویسے آپکو اس حالت میں دیکھ میرے الفاظ میرے ساتھ نہیں دے رہے ہیں۔۔

وہ ایک بار پھر سے مجھ سے مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ قربان آپ تھکے ہوئے ہیں چلو پہلے پانی پی لو اور پھر اپنے وتاخ کی جانب چلتے ہیں اور میں نے اس کی ہاتھوں سے وہ پانی کی بوتل لے کر پانی پینے لگا اور کہنے لگا کہ اُف قربان ہوجاؤں اس جَلّی ڈبے پر ( کپڑوں میں لپٹا ہوا بوتل) جس کی پانی شاید میرے لیے زم زم ءِ دوزان سے کم نہ تھے اور ایک خوش قسمت میں تھا کہ جو مارگٹ کو قبلہ بنا کر اپنا منہ اسی رخ کیا اور ورد ءِ وطن پڑھتا رہا ۔۔۔۔۔۔

چلوں پُل جان سب سامان مجھے دے دو،اب ہم یہاں سے آگے جائیں گے اور وہاں پر دیوان کرینگے۔ خیر ہم روانہ ہوگئے اور اس درمیان میں خاموشی سے ہم نے طویل مسافت طے کیا اور اس سفر میں مجھے یاد ہے کہ کسی دوست نے بھی ایک دوسرے سے باتیں نہیں کیا بس سب خاموشی اور ہوشیاری سے رواں دواں تھے۔ میں اس دوران کبھی کھبار اس وہم میں پڑ جاتا تھا کہ یار شتکو جان اور دوسرے سنگت کیوں بات نہیں کر رہے ہیں۔۔۔۔

مجھے اچھے طریقے سے یاد ہے کہ اس کے ساتھ دو اور سنگت بھی ہمراہ تھے جو دونوں جدید ہتھیاروں سے اور قربان ہونے کی جذبات سے لیس تھے اور اس لمحے میں شتکو جان میرے حیرانگی کو بھانپ کر اور میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر دھیرے انداز میں کہنے لگا کہ

پُل جان! اندُن لگک کہ نی مالوّ دُنو بلو پند ہچبر خلتنُس۔

جی اھو ساہ ئنا بند ، مچے باز پند کرینٹ ولے داخس مُرغن آخہ۔

بشخندہ کریسہ پارے، جوان پُل جان داسہ وتاخ خُڑک ءِ پدا اموڑے دم کش

ہم یوں ہی محوِ سفر تھے کہ ان کا وتاخ پر پہنچ گئے، جہاں پر دو اور سنگت انتظار میں تھے۔ شتکو جان مجھ سے پیار بھری آواز میں مخاطب ہو کر کہنے لگا کہ چلو پُل جان ہمارا وتاخ آگیا اور اس نے کہا اب آپ بے فکر ہوجائیں اور کچھ دیر آرام کر لیں اور پھر ہم دیوان کرینگے تب تک ہم آپ کے لئے چائے بنائیں گے اور اس نے اپنے سنگتون میں سے کسی ایک سنگت کو چائے بنانے کا کہ کر خود اپنے امیل سے واکی ٹاکی نکال کر وتاخ سے باہر نکل گیا۔

ایک سنگت چائے بنانے لگا تو دوسرا لکڑیاں جمع کرنے لگا اور تیسرا سنگت کپ وغیرہ دھونے میں مشغول ہوگیا، اتنے میں میرے منہ سے بے ساختہ کچھ الفاظ نکلے، ندر اڑے نُما دا مہر و مابت کن، صدخہ نُما سنگتی کن۔۔۔۔

کچھ وقت گزرنے کے بعد چائے بھی تیار ہوا تو شوکت جان بھی آگیا اور ہم سب ایک ساتھ بیٹھ کر چائے پینے لگے اور ڈھیر ساری باتیں کیئے، پھر سنگت شوکت جان نے دوستوں سے کہا کہ آپ لوگ کھانے کی بندوبست کرلے تب تک میں اور شہیک جان سامنے والے چوٹی پر بیٹھ کر سنگت کے ساتھ دیوان کرینگے۔ اس کے بعد میں نے اپنا بیگ اُٹھایا اور ہم تینوں چوٹی پر چڑھ کر دیوان کے لئے بیٹھ گئے تو شتکو جان مجھ سے محو گفتگو رہا اور کہنے لگا کہ قربان، آپ سے کہاں سے بات کرنا شروع کرو۔وہاں سے جہاں جب آپ سے آخری مرتبہ فون پر بات ہوگیا تھا یا کالج کے گیٹ کے سامنے والے ملاقات کے بعد سے بات شروع کرو۔بس ایک میں تھا جس کے پاس داستان زہیری کا سفر بہت طویل تھا تو میں نے کہا وہاں سے شروع کرتے ہیں جہاں سے آپ نے آخری مرتبہ کہا پُل جان حال احوال ہوتا رہے گا۔۔۔

شوکت جان نے مجھ سے کالج کی گیٹ سے لے کر اس تلار تک سارا حال احوال لیا اور پھر اپنا احوال سُنایا، اڑے شنک نُمکن۔۔۔۔۔

اس مقدس وقت کے بیچ میں ہم نے بہت سے باتیں کیے، اس نے ہمارے علاقہ سمیت خضدار کے بارے میں پوچھا تو میں نے شتکو جان کو کہا کہ، کنا پُل نا خضدار کنے ساہ آن ام گیشتر دوست ءِ و ارا وخت کہ خضدار آ کاوہ گڑا الم امو جاگہ تیا کاوہ اراڑے کہ نن دیوان کرینہ و اندُن نا یات آتا سیبو ئٹ زند ءِ تدیفنگ ئُٹ، گُڑا او بشخندہ کریسہ پارہ کہ کنا پُل کنے جوان سما ءِ نے خضدار کنا یا پین مہروان ئسینا خاطر آن دوست ءِ،۔۔۔۔دا گپ ئتون نن ار مُسٹ ٹاکو ئس خلکُن، ولے شوکت جان ءِ دا سما الوّ کہ گُلزار کِن خضدار مالوّ نا مہروان سلتنے و گلزار داسہ کیچُل نا ھنینا کوہِ مُراد ءِ تینا کعبہ جوڑ کرینے ۔۔۔،!

انہی باتوں میں، میں نے شوکت جان کو کہا کہ شتکو جان آپ کےلیے میں نے کچھ ٹیکی لایا ہے تو شوکت جان انتہائی پر مہر و بشخندہ انداز میں کہا کہ کیا لے آئے ہو پل جان، میں نے سارے تحفوں کو بیگ سے نکال کر ان کے سامنے رکھ دیا۔

یہی وہ کیفیت تھا جو مجھے یاد ہے کہ شوکت جان ایک گہری سوچ میں کھویا ہوا تھا اور میں نے سوچا شاید میرے یہ چیزیں شوکت جان کو مناسب نہیں لگے ہونگے ۔

میں نے اس کا نام لے کر مخاطب ہوا کہ شوکت جان کیا ان چیزوں کو یہاں لانے کا اجازت نہیں ہے کیا ،؟؟؟۔

تو وہ یہ سن کر ایک انتہائی درد بھرے بشخندہ میں میرے طرف دیکھنے لگا اور یہ ایک ایسا لمحہ تھا جس کو بیان کرنے کے لئے میرے الفاظ بھی ساتھ نہیں دے رہے تھے۔۔۔،!

وہ یہ سب چیزون کو دیکھ کر کہنے لگا کہ گلزار یار، آپ نے میرے کالج کے عادتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے ان چیزوں کو لائے ہو۔

ہمارے ڈڈوکی جو کچھ دن پہلے ہی ختم ہوگئے تھے اور دل بہت کررہا تھا کہ کسی نہ کسی طریقے سے امی تک یہ پیغام پہنچا دوں لیکن جب بات کرنے پر معلوم ہوا کہ امی جان کی طبعیت تھوڑا بہت ناساز ہے تو اسلیے پھر پیغام دینا مناسب نہیں سمجھا، اس درمیان میں، میں اس سوچ میں مگن ہوا کہ گلزار یار، وطن کی درد نے لاڈلے بیٹون کو ان کی پیارے ماؤں سے جدا کیا ہے۔ اس کو پتا ہے کہ امی کی طبعیت اچھی نہیں ہے مگر پھر بھی وہ اس ماں ( زمین) کی حفاظت کا فرض ادا کر رہا ہے۔

وہ اس دوران کتابون کو دیکھ کر کہنے لگا کہ واہ گلزار، آپ نے تو کتابیں بھی لائے ہیں جو ان سارے تحفوں سے میرے لئے بڑھ کر ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ شوکت جان کے پاس دو کتابیں پہلے سے موجود تھے تھے جن میں سے ایک مرید بلوچ کی کتاب “رخصت اف”اور دوسرے کتاب “بابا خیر بخش مری کے انٹر ویوز” تھے اور اس دورانیہ میں ہمارے درمیان بہت سے باتیں ہوئے۔وہ چاہیے موجود بلوچ تحریک پر ہو یا دنیا کے دوسرے تحاریک سمیت بہت سے موضوعات پر باتیں ہونے کے بعد شوکت جان اپنی سرخ رنگ کی ڈائری کو نکال لیا اور مجھے اپنے کچھ پسندیدہ اشعار بھی سنائے۔

قربان ! ویسے تو وطن کی درد کو ، شہیدوں کو تو سارے شاعرِ وطن اپنے قلم کا عنوان اپنی خیالوں کا مرکز بنادیتے ہیں۔لیکن مجھے ابصار جان کی شاعری تو سب سے زیادہ پسند ہوتے ہیں۔خیر اس درمیان میں مجھے شوکت جان نے بہت سے شعر سنائے، اور سنگت شہیک نے بھی گلزمین کے عشق میں لکھے ہوئے کچھ خوبصورت اشعار گوش گزار کیے پھر کچھ ٹوٹے پوٹے شعر میں نے بھی سنائے۔

ہمارے اس ملاقات کا دورانیہ چار سے پانچ گھنٹے پر مشتمل تھا اور پھر اس کے بعد شوکت جان نے آخر میں مجھے کماش بشیر زیب کی کتاب” مہر گہوش” بطور ٹیکی دے دیا۔جو میرے لیے دنیا کی سارے کتابوں سے زیادہ اہمیت رکھتا ہے اور میرے لئے مقدس ہے۔ ایک اور ایسی چیز جو مجھے شوکت جان نے دیا تھا وہ بھی ایک اپنے ہاتھ کا دیا ہوا یادگار۔۔۔،وہ یادگار جو مجھے شتکو جان نے دیئے تھے وہ اپنی بندوق سے ایک نکالا ہوا تیر۔ جی ہاں اس نے اپنے کلاشنکوف کی میگزین سے ایک تیر مجھے نکال کر دے دیا اور یہی کہا کہ قربان یہ میرے طرف سے آپ کے لیے ایک یادگار ٹیکی ہے ۔۔۔۔

اے کاش کہ میں بھی ایک یونان کا حکمران ہوتا جو اس دیس کے باسیوں کو اس کو خدا ماننے کا کہتا۔۔۔

یہی وہ آخری فلسفہ ہے جو میرے وطن کے سرمچاروں کا خود کو اس سرزمین پر قربان کرنے کا گڈی فلسفہ ہوتا ہے،یہ فلسفہ پُلھین امیر جان سے لیکر شیخ عطاء جان اور ساہیں زیشان جان سمیت پُل شوکت جان و اسکے زرپہاز سنگتوں کا ہے، خدا کرے کہ گلزار تم اس مقدس ٹیکی کا پاس رکھ سکو۔۔۔۔۔

شوکت جان نے کہا کہ اب چلو چل کر کھانا کھاتے ہیں، اور پھر ہم سارے بیٹھ کر باتیں کرتے ہوئے کھانا کھانے لگے اور پہلے سے تیار چائے بھی پی لیے تو شتکو جان نے کہا کہ سنگت اب ہمارا رخصتی کا وقت آگیا ہے کیونکہ وقت گزر رہا ہے اور آپ کو واپس علاقہ جانے کے لئے بھی دیر ہوگا اور ہم بھی اپنے اگلے منزل کی جانب رختِ سفر باندھیں گے۔( سنگت شتکو جان اور اس کے سرمچار سنگت تنظیمی کام کے سلسلے میں شُور سے بولان کے کسی جگہ پر جارہے تھے)

مہروان سنگت شتکو جان کی رُخصتی کا لفظ میرے لیے زلزلے کی خبر سے کم نہ تھا۔۔۔

پُل جان آب ہم آپکو آپکے راستے تک پہنچا دینگے اور پھر ہمیں وہاں سے آگے جانا ہے۔اے وقت کاش تو میرے بساط میں ہوتا تاکہ میں وہ لمحات کھبی ختم نہیں ہونے دیتا۔۔۔۔

لُمہ ڈغار کی عشق میں مست جانِ من سرمچاروں سے ایک ایک کرکے بغلگیر ہوتا گیا اور ان کے پیشانی و مقدس ہاتھوں پر بوسہِ مہر دیا اور رُخصت اف اوارن کہہ کر میں اور سنگت شوکت جان سامنے والے پہاڑ پر چڑھے جہاں سے آگے میرا راستہ الگ ہورہاتھا۔۔۔

مجھے یاد ہے کہ میں اور سنگت شتکو جان اس پہاڑی چوٹی پر سے رخصت ہوئے میرا دل شتکو جان سے الگ ہونا نہیں چاہ رہا تھا اور آنکھوں سے آنسو دریائے بولان کی طرح رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے اور آج بھی وہ لمحہ میرے نظروں کے سامنے ہیں اور وہ پُر مہر اور شیریں آواز جب اس نے کہا کہ پُل جان اوارُن اور اگلی بار کب ،کہاں اور کیسے ملیں کچھ پتہ نہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اوارُن شتکو کنا ساہ۔۔۔
” ندّر، جندندّر آک زیبا غا گوادر نا سینگار ئکِن
شنک شتک بالاد آ شوکت جان نا خضدار ئکِن “

٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here