تربت: سی ٹی ڈی کے جعلی مقابلے میں ہلاک 2 افراد کی شناخت بطور لاپتہ افراد ہوگئی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت میں کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی )کی مبینہ کارروائی میں ہلاک 4 افراد میں 2 کی شناخت حسب معمول لاپتہ افراد کے طورپر ہوگئی ہے ۔

واضع رہے کہ آج بروز جمعرات علی الصبح سی ٹی ڈی نے تربت کے ٹیچنگ ہسپتال میں 4 افراد کی لاشیں پہنچا دیں۔

سی ٹی ڈی نے اپنے بیان میںدعوی کیاتھا ہے کہ مذکورہ افراد کو تربت کے علاقے بانک چڑھائی پسنی روڈ پر ایک مقابلے کے بعد ہلاک کردیا گیاہے۔

سی سی ٹی ڈی نے یہ بھی دعویٰ کیا تھا کہ مذکورہ افراد مسلح تھے انہیں ہلاک کرنے کے بعد ان کے قبضہ سے بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔

لیکن دوسری جانب حسب معمول سی ٹی ڈی کی کارروائی جعلی ثابت ہوگئی اور قتل کئے گئے 4 افراد میں سے اب تک 2 کی شناخت بطور لاپتہ افراد کے ہو گئی ہے جو پہلے سے پاکستانی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں لاپتہ تھے ۔

ایک لاش کی شناخت بالاچ ولد مولابخش کے نام سے ہوگئی ہے جسے 29 اکتوبر 2023 کی رات ایک بجے کے قریب تربت سے فورسز و خفیہ اداروں کے اہلکاروں نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔

ان کی فیملی کا کہنا تھا کہ دو دن قبل 21 نومبر کوبالاچ کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے عدالت میں پیش کیاگیا اور دس روزہ ریمانڈ پر سی ٹی ڈی کے حوالے کیاگیا ۔ جسے جعلی مقابلے میں مار کر سی ٹی ڈی بڑی بے شرمی سے دعویٰ کررہی ہے کہ بالاچ کو بھی دیگر تین افراد کے ساتھ پسنی بانک چڑھائی پر مقابلے میں ماراگیاہے۔

کہا جارہا ہے کہ بالاچ کا تعلق انتہائی غریب خاندان سے ہے اور وہ اسٹار پلس مارکیٹ تربت میں کشیدہ کاری کا کام کرکے اپنے گھر والوں کی کفالت کرتا تھا۔

جبکہ دوسرے لاش کی شناخت سیف اللہ ولد امید علی ساکن پیدارک کے نام سے ہوگئی ہے جسے گھر سے لاپتہ کیا گیا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment