تربت میں سی ٹی ڈی کا مبینہ مقابلہ ، 4 افراد کی لاشیں ہسپتال منتقل

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع کیچ کے مرکزی شہر تربت کے ٹیچنگ ہسپتال میں جمعرات کی علی الصبح سی ٹی ڈی نے 4 افراد کی لاشیں پہنچا دیں۔

پولیس کے مطابق سی ٹی ڈی نے دعوی کیا ہے کہ مذکورہ افراد کو بانک چڑھائی پسنی روڈ پر ایک مقابلے کے بعد ہلاک کردیا گیا۔

سی سی ٹی ڈی کی طرف سے یہ دعوی بھی کیا گیا ہے کہ مذکورہ افراد مسلح تھے انہیں ہلاک کرنے کے بعد ان کے قبضہ سے بھاری تعداد میں اسلحہ اور گولہ بارود برآمد کیا گیا ہے۔

چاروں لاشیں اس وقت ٹیچنگ ہسپتال تربت میں رکھی گئی ہیں جنہیں تاحال شناخت نہیں کیا گیا ہے۔

بلوچستان میں سی ٹی ڈی کی کارروائیاں جعلی قراردی جاتی ہیں ۔ماضی میں سی ٹی ڈی کی تمام تر کارروائیوں میں ہلاک افراد کی شناخت بطور لاپتہ افراد کے ثابت ہوچکی ہیں۔

دوسری جانب نگران وزیر داخلہ بلوچستان زبیر جمالی نے کائونٹر ٹیرارزم ڈیپارٹمنٹ سی ٹی ڈی کے ہیڈ کوارٹر کا دورہ کیا۔

اس موقع پر ڈی آئی جی اعتزاز احمد گورایا ، ایس ایس پی سی ٹی ڈی اسد خان ناصر ،ایس ایس پی ایڈمن شوکتِ حسین بھی موجود تھے ۔

ڈی آئی جی سی ٹی ڈی نے نگران وزیر داخلہ کومحکمانہ امور اور ملازمین کو درپیش مسائل پرتفصیلی بریفنگ دی ۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ سی ٹی ڈی نے بلوچستان بھر میںدہشت گردی کی روک تھام کیلئے نا قابل فراموش خدمات سر انجام دی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سی ٹی ڈی کی دیگر ضروریات کو بھی پورا کیا جائے گا۔ امن وامان کے قیام اور دہشت گردی کے خاتمے کے لئے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔

واضع رہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں میں براہ راست پاکستانی فوج ، ایف سی اور خفیہ ادارے ملوث ہیںاور یہ ادارے اپنی غیر قانونی و غیر انسانی اوردہشتگردانہ کارراوئیوں کو چھپانے اور عوام اور عالمی اداروں کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کیلئے سی ٹی ڈی کو بطور ہتھیار استعمال کرکے قانونی شکل دینے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہر بار سی ٹی ڈی کی کارروائیوں کی جعلی حقیقت سب کے سامنے عیاں ہوجاتی ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment