خضدار میں سی ٹی ڈی کے جعلی مقابلے میں ہلاک افرادکی شناخت لاپتہ افراد کے طور پر ہوگئی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

گذشتہ روز خضدار میں پاکستانی فورس کائونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے ایک جعلی مقابلے میں 3افراد کو مارنے کا دعویٰ کیا تھا۔

ا س سلسلے میں وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) نےسماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک پوسٹ میں لکھا ہے کہ خضدار میں سی ٹی ڈی نے جن تین افراد کو مقابلے میں مارنے کا دعویٰ کیاہے ان میں سے ایک کی شناخت آفتاب سمالانی کے نام سے ہوئی ہے جنہیں رواں سال 11 اگست کو ہزار گنجی کوئٹہ سے لاپتہ کیا گیا تھا جن کا کیس تنظیمی سطح پر لاپتہ افراد کے حوالے سے بنائے گئے کمیشن کو فراہم بھی کیا گیا تھا۔

اسی طرح مارے جانے والوں میں عبداللہ ولد عرض محمد سکنہ لوٹانی زہری کو دو سال قبل پاکستانی فورسز نے حراست میں لے کر لاپتہ کیا تھا۔

جب کی ایک کی شناخت حمزہ کے نام سے ظاہر کی گئی ہے۔

واضح رہے کہ سی ٹی ڈی نے دعویٰ کیا ہے کہ مارے جانیوالے افرادکے قبضے سے موٹرسائیکل، 1 دیسی ساختہ بم، 3 دستی بم، ایک پستول اور 2 کلاشنکوف برآمد ہوئے ہیں، اور مارے جانے والوں کا تعلق بی ایل ایف،بلوچستان لبریشن فرنٹ سے ظاہر کیا ہے۔

بلوچستان میں اس سے پہلے بھی سی ٹی ڈی مقابلوں میں لوگوں کو مارنے کا دعویٰ کرتا آرہا ہے جو بعدازاں جعلی مقابلے ثابت ہوئے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment