سب یاد رکھا جائے گا! | عزیز سنگھور

0
208

بلوچستان کے ضلع آواران کے علاقے گیشکور میں ایک 22 سالہ استانی نے سرکاری اہلکاروں کی بلیک میلنگ سے تنک آکر خود کشی کرلی۔ اس کے پاس زندہ رہنے کے لئے دو آپشن تھے۔ بے عزتی یا موت!
تاہم بائیس سالہ ٹیچر نجمہ بلوچ نے غیرت کی زندگی کو چُنا اور موت کو گلے لگاکر بے غیرتی کو شکست دے دی اور بے غیرتوں کے منہ پر طمانچہ رسید کردیا۔ نجمہ بلوچ نے 15 مئی 2023 کو اس وقت خودکشی کی جب لیویز اہلکار نوربخش کی جانب سے انہیں ہراساں کیا جارہا تھا۔ انہیں مختلف بہانوں سے تنگ کیا گیا، غلط تعلق رکھنے کے لئے مختلف حربے استعمال کئے گئے۔ یہ سلسلہ چھ مہینے سے چل رہا تھا۔ بالاخر خودکشی سے ایک روز قبل سرکاری اہلکار نے نجمہ سے کہا کہ وہ گیشکور میں قائم آرمی کیمپ میں آجائے جہاں ان کے خلاف انکوائری چل رہی ہے۔ نجمہ بلوچ نے جب یہ سنا تو ان کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی ۔ ایک لڑکی ذات کیسے آرمی کیمپ میں حاضری لگائی گی؟۔ بالاخر نجمہ بلوچ نے موت کو ترجیح دی۔ ایسی موت پر ہر بلوچ کو فخر ہے۔ ایسی بیٹیاں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں جو اپنے بھائیوں اور والدین کا نام روشن کرتی ہیں۔

نجمہ بلوچ ایک معمولی لڑکی نہیں بلکہ ایک پڑھی لکھی لڑکی تھی ۔ انہیں تعلیم کی اہمیت و افادیت کا اچھی طرح اندازہ تھا۔

وہ شادی شدہ تھی ، میاں دبئی میں ملازمت کرتے ہیں جو ان کے کزن بھی ہیں۔ نجمہ کے والد دلسرد بلوچ زراعت کے شعبے سے منسلک ہیں۔ وہ زمینداری سے اپنا گزر بسر کرتے ہیں۔ نجمہ بلوچ نے تعلیم کے حصول کے لئے ضلع آواران سے ضلع حب کا رخ کیا تھا۔ جہاں انہوں نے انٹر میڈیٹ تک تعلیم حاصل کی۔ کیونکہ ان کے علاقے میں کالج تو دور کی بات اسکول تک نہیں ہے اور پورے علاقے میں تعلیم ناپید ہے۔

اس صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے نجمہ نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنے علاقے میں ایک اسکول تعمیر کرے گی۔ جہاں غریب بچوں کو مفت تعلیم دی جائے گی ۔ اس نے جیسا سوچا ویسا کرکے بھی دکھایا۔

نجمہ نے اپنی مدد آپ کے تحت جھونپڑی میں اسکول قائم کیا ۔ جس میں بچوں کو مفت تعلیم دینا شروع کردی۔ یہ سلسلہ تین سال تک چلتا رہا۔ اس اسکول کے قیام میں ان کے شوہر اور والد نے انہیں مالی معاونت کی۔ نجمہ بلوچ بچوں کو مفت کتابیں بھی دیتی تھی۔ اس اسکول میں ایک سو سے زائد بچے اور بچیاں زیر تعلیم تھیں۔

نجمہ کی شہادت نے زیر تعلیم بچوں کو سوگوار کردیا ہے۔ کیونکہ نجمہ ان کی زندگی سنوارنے کی ایک امید تھی۔ بچوں کے سارے خواب چکنا چور ہوگئے۔ ان کی استانی نے اپنی عزت بچانے کے لئے موت کا راستہ چنا۔ سرکاری بندوق تھامنے والے ڈیتھ اسکواڈ کے لوگوں نے انہیں زندہ رہنے نہیں دیا۔

نجمہ بلوچ کے علاقے میں ڈیتھ اسکواڈ کے لوگ کافی مضبوط اور منظم ہیں، انہیں سرکاری سرپرستی حاصل ہے۔ وہ علاقے کے لوگوں کے مال مویشی تک اٹھالیتے ہیں۔ غریب لوگ شکایت کریں تو کس سے کریں؟ ان کی سننے والے کوئی نہیں ہے۔ پورا علاقہ ڈیتھ اسکواڈ کے رحم و کرم پر چلتا ہے۔ ان کی مرضی کے بغیر پرندہ بھی پَر نہیں مارسکتا ہے۔

نجمہ بلوچ کو ہراساں کرنے اوربلیک میلنگ سے اس حد تک ذہنی دباؤ کا شکار بنایا گیا کہ وہ خودکشی کرنے پرمجبور ہوگئی۔ نجمہ نے خود کشی کی تو پورے آواران میں اس کی موت کی خبر آگ کی طرح پھیل گئی۔ تاہم ان کی موت کے خلاف کوئی آواز نہیں اٹھی کیونکہ پورے ضلع میں ڈیتھ اسکواڈ کا راج قائم ہے۔ نجمہ کی موت کی آواز ضلع کیچ میں تربت سول سوسائٹی کے کنوینئر گلزار دوست نے اٹھائی۔ کسی زمانے میں ضلع کیچ میں بھی ڈیتھ اسکواڈ کا راج تھا۔ ڈیتھ اسکواڈ کے اہلکار گھروں میں گھس کر وارداتیں کرتے تھے اور مزاحمت پر گولیاں چلاتے تھے۔ پورا کیچ ڈر اور خوف کے مارے خاموش رہتا تھا۔ ایسا ہی ایک مشہور واقعہ کیچ کے علاقے ڈنک میں پیش آیا۔ جہاں ملک ناز نامی عورت نے ڈکیتی کے خلاف مزاحمت کی۔ جس سے ان کی موت واقع ہوئی۔ بجائے اس کے کہ ضلع کیچ میں اسکے خلاف آواز بلند ہوتی، گوادر شہر سے آواز اٹھی اور پھر پورے بلوچستان میں پھیل گئی۔

ضلع آواران وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو کا آبائی علاقہ اور حلقہ انتخاب بھی ہے۔ جہاں سے وہ صرف ساڑھے چارسو ووٹ لیکر رکن بلوچستان اسمبلی منتخب ہوتے رہے ہیں۔ اور پھر فوجی کیمپ کی سرکار بھی انہیں کبھی اسپیکر بلوچستان اسمبلی تو کبھی وزیراعلیٰ بلوچستان مقرر کرتی رہتی ہے۔ وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو ایک کٹھ پتلی وزیراعلیٰ کی حیثیت سے کام سرانجام دے رہے ہیں۔ وہ بےچارے بائیس سالہ استانی کی موت پر کیا ایکشن لیں گے۔ انہیں معلوم ہے کہ ان کو وزیراعلیٰ کی کرسی کیسے ملی ہے۔ اسی وجہ سے میرے لئے نجمہ بلوچ کی موت پر ان کی خاموشی حیران کن بات نہیں ہے۔

تاہم مجھے نجمہ بلوچ کی موت پر بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ اختر مینگل کی خاموشی پر حیرانگی ہے۔ وہ اس وقت حکومت کا حصہ اور وزارتوں سے استفادہ بھی حاصل کررہے ہیں۔ وہ بلوچستان کے سب سے بڑے بھاشن دینے والے سیاستدان ہیں۔ جو پارلیمنٹ میں بیٹھ کر صرف چٹ پٹی تقریریں کرتےہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ جذباتی تقریروں عوام کا دل جیتنے کا آسان طریقہ ہے۔

بلوچستان کے موجودہ گورنر ولی کاکڑ کا تعلق اختر مینگل کی پارٹی سے ہے۔ گورنر بننے سے قبل وہ بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے مرکزی نائب صدر تھے۔ اختر مینگل کے کہنے پر ہی ولی کاکڑ کو گورنر مقرر کیا گیا۔

جب وہ اپوزیشن میں ہوتے تھے تو اس وقت میرے مینگل صاحب سے اچھے رواسم تھے۔ جنرل پرویز مشرف کے دور میں کراچی میں ان کے گھر کا محاصرہ کیا گیا تو میں واحد صحافی تھا جو وہاں ان کے پاس پہنچا ہوا تھا۔ جب آصف علی زرداری نے حکومت سنبھالی تو اختر مینگل کی رہائی سے قبل انہیں لیاقت نیشنل اسپتال میں منتقل کردیا گیا تھا۔ جہاں اختر مینگل نے مجھ سے مخاطب ہوکر پوچھا کہ عزیز سنگھور! کیا پیپلز پارٹی کی حکومت واقعی مجھے چھوڑ دے گی؟۔ جس پر میں نے کہا تھا کہ میرے ذرائع کے مطابق آپ کی چند گھنٹے بعد رہائی ہوجائےگی۔ اور انکی رہائی ہو بھی ہوگئی۔

کہا جاتا ہے کہ جیل میں سیاستدان سیاست سیکھ جاتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو اختر مینگل نے جیل میں رہ کر حکومت میں رہنے کی سیاست اچھی طرح سیکھ لی۔ جب عمران خان کی حکومت تھی تو وہ اقتدار میں تھے۔ اب جب شہباز شریف کی حکومت آئی تو وہ ان کی حکومت کا بھی حصہ ہیں اور بلوچستان میں اپنا گورنر بھی مقرر کروادیا ہے۔ لیکن اختر مینگل، عبدالقدوس بزنجو اور ان کا سرکاری اور فوجی کیمپ نجمہ بلوچ کے خون سے نہیں بچ سکیں گے۔ ایک نہ ایک دن انہیں اس خون کا حساب دینا پڑے گا۔ سب یاد رکھا جائے گا!۔


٭٭٭

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here