بلوچستان کے صنعتی شہر حب میں بھاری پولیس نفری کی تعیناتی ،ناکہ بندی اور پریس کلب کی بندش کے باجود بلوچ یکجہتی کمیٹی کی جانب سے بلوچ جبری گمشدگیوں کیخلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا اور ریلی نکالی گئی۔
اس سلسلے میں بی وائی سی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر احتجاجی مظاہرے کے فوٹیجز اورتفصیلات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ لسبیلہ پریس کلب پر پولیس کی ناکہ بندی کے باوجود پرامن مظاہرین نے خاموشی اختیار کرنے سے انکار کرتے ہوئے حب چوکی کی مرکزی سڑکوں اور گلیوں میں آ گئے۔
یہ بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) کے احتجاجی سلسلے کا حصہ ہے جس کا موضوع تھا "خاموشی کو توڑنا: جبری گمشدگیوں کے خلاف کھڑا ہونا۔” جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کے اہل خانہ بھی وہاں موجود تھے، جنہوں نے اپنی دردناک کہانیاں بیان کیں اور انصاف کا مطالبہ کیا۔
یہ کراچی میں پہلے کے بعد BYC کا دوسرا احتجاج ہے، جسے پولیس نے لاٹھی چارج اور گرفتاریوں کے ذریعے پرتشدد طریقے سے روکا تھا۔
مزاحمت بدستور مضبوط ہے، اور بلوچوں کے ساتھ متاثرہ خاندانوں کی آوازوں کو راستے میں رکاوٹیں یا تشدد سے دبایا نہیں جا سکتا۔ جبری گمشدگیوں کے خلاف احتجاج کی یہ لہر، بلوچ نسل کشی کا تسلسل، پورے بلوچستان میں جاری رہے گی۔ تحریک کو ڈرانے اور خاموش کرنے کی کوششوں کے باوجود ثابت قدم ہے۔