ہرنائی میں کوئلہ لے جانیوالے 40 ٹرک فائرنگ سے ناکارہ،بی ایل اے نے ذمہ داری لے لی

ایڈمن
ایڈمن
5 Min Read

بلوچستان کے علاقے ہرنائی میں گزشتہ شب نامعلوم مسلح افراد نے کوئلہ لیجانے والے ٹرکوں پر حملہ کرکے انہیں نقصان پہنچایا۔

کہا جارہا ہے کہ واقعہ ہرنائی، زردآلو کے مقام پر گزشتہ شب پیش آیا جہاںمسلح افراد کی بڑی تعداد نے مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کرکے شاہراہ کو مکمل بند کردیا۔

ذرائع کے مطابق ناکہ بندی کے دوران مسلح افراد نے فائرنگ کرکے کم از کم 40 کوئلہ لیجانے والے ٹرکوں کے ٹائر برسٹ کئے۔

علاقائی ذرائع کے مطابق پوری رات مسلح افراد نے مرکزی شاہراہ کو بند کرکے گاڑیوں کی چیکنگ کی اور 40 ٹرکوں کے ٹائروں پر فائرنگ کر کے ناکارہ کردیا۔

علاقائی ذرائع کا کہنا ہے کوئٹہ ہرنائی شاہراہ پر ہر پانچ کلو میٹر پر چیک پوسٹ موجود ہونے کے باوجود اس نوعیت کے واقعات پیش آرہے ہیں۔

دوسری جانب اس حملے کی ذمہ داری بلوچ آزادی پسند مسلح تنظیم بی ایل اے نے قبول کرلی ہے ۔

بلوچ لبریشن آرمی کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک پریس ریلیز میں ہرنائی میں 40 کوئلہ ٹرکوں پر فائرنگ و ناکارہ بنانے کی ذمہ داری قبول کرلی ہے ۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ ہمارے سرمچاروں نے کیچ کے علاقے زامران اور ہرنائی میں تین مختلف حملوں میں قابض پاکستانی فوج اور معدنیات لیجانے والی گاڑیوں کو نشانہ بنایا، حملوں میں تین دشمن اہلکارہلاک، آٹھ زخمی ہوگئے جبکہ اکتالیس گاڑیوں کو نقصان پہنچایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ بی ایل اے کے سرمچاروں نے گذشتہ شب زامران کے علاقے لد میں قابض پاکستانی فوج کے ایک کیمپ کو حملے میں نشانہ بنایا، سرمچاروں نے جدید ہتھیاروں اور آر پی جی کا استعمال کیا، حملے میں دشمن فوج کے تین اہلکار موقع پر ہلاک جبکہ دشمن کے مورچے کے اندر راکٹ گرنے سے کم از چار اہلکار زخمی ہوگئے۔

ترجمان نے کہا کہ دریں اثناء گذشتہ شب بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے ہرنائی میں زردآلو کے مقام پر مرکزی شاہراہ پر ناکہ بندی کرکے معدنیات لیجانے والی چالیس کے قریب گاڑیوں کے ٹائر فائرنگ کرکے ناکارہ کردیئے جبکہ ڈرائیوروں اور کلینروں کو چھوڑ دیا گیا۔

انہوںنے کہا کہ آج دوپہر کو مذکورہ مقام پر پہنچنے والے قابض پاکستان کے ذیلی ادارے لیویز فورس کے ایک گاڑی کو بی ایل اے کے سرمچاروں نے بم حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کم از کم چار اہلکار زخمی ہوگئے جبکہ انکی گاڑی کو شدید نقصان پہنچا۔

ترجمان نے کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی پہلے بھی واضح کرچکی ہے جبکہ آخری بار 20 مئی 2023 کو بیان میں کہا گیا تھا کہ کوئلہ کان ٹھیکیدار اور مزدور قابض فوج کیلئے مخبری، راشن فراہم کرنے اور واٹرسپلائی نصب کرکے سہولیات فراہم کرنے سے گریز کریں وگرنہ وہ اپنے جانی و مالی نقصانات کے ذمہ دار خود ہونگے۔

انہوں نے کہاکہ ہرنائی اور گردنواح میں قابض پاکستانی فوج رات کے اوقات کوئلہ لیجانے والی گاڑیوں کے ہمراہ نقل و حرکت کرتی رہی ہے جبکہ یہی گاڑیاں قابض فوج کو راشن و دیگر اشیاء فراہمی کرنے میں ملوث پائے گئے ہیں

ترجمان کا کہناتھاکہ بلوچ لبریشن آرمی ہرنائی تا ناکس، ناکس تا شاہرگ، شاہرگ تا کھوسٹ و زرد آلو، ڈومرا تا زیارت کراس اور مارگٹ تا پیر اسماعیل شاہراہوں اپنی ناکہ بندی جاری رکھے گی، قابض فوج کی سہولت کاری میں ملوث افراد اپنے جانی و مالی نقصانات کے ذمہ دار خود ہونگے۔

انہوں نے کہاکہ ہم لیویز فورس و پولیس پر واضح کرتے ہیں کہ کیمپوں تک محدود قابض پاکستانی فوج کی سہولت کاری سے گریز کریں، اس سے قبل بھی ہم کہہ چکے ہیں کہ پولیس و لیویز براہ راست ہمارے نشانے پر نہیں ہیں لیکن قابض فوج کی سہولت کاری کرنے پر کسی سے رعایت نہیں بخشی جائے گی۔

انہوں نے مزید کہاکہ بلوچ لبریشن آرمی مذکورہ تینوں حملوں کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔ قابض پاکستانی فوج و اس کے سہولت کاری پر مقصد کے حصول تک ہماری کارروائیاں جاری رہینگی۔

Share This Article
Leave a Comment