پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدرابراہیم رئیسی بلوچستان وایران کے سرحدی شھر ردیگ جو مکران ڈویژن کے ضلع کیچ کے سب تحصیل مند میں واقع ہے میں پہنچ کر یکجاہ ہوگئے۔
جہاں دونوں ممالک کی قیادت نے تجارت کے فروغ کے لیے ردیگ میں بارڈر مارکیٹ کا افتتاح کیا۔
ذرائع کے مطابق حکومت مزید 5 بارڈر مارکیٹس پر کام کر رہی ہے جن کو جلد تجارت کے لیے کھول دیا جائے گا۔
دونوں سربراہان مملکت نے مکران کوسٹل بیلٹ کے لیے 100 میگاواٹ گبد پولان بجلی کی ٹرانسمیشن لائن کا بھی افتتاح بھی کیا۔
کہا جارہا ہے کہ ٹرانسمیشن لائن کی تکمیل سے ایران مکران ڈویژن کو مجموعی طور پر 204 میگاواٹ بجلی فراہم کرے گی۔
اس سے قبل ایک معاہدہ کے تحت ایران سے مکران ڈویژن کو 100 میگاواٹ بجلی فراہم کی جارہی تھی۔
اس موقع پر تقریب سے خطاب میں شہباز شریف نے کہا کہ ایرانی صدر سے مفید اور مثبت گفتگو ہوئی، ان کو سی پیک سے متعلق بھی تجاویز پیش کی ہیں، ایران کے ساتھ فری ٹریڈ کو جلد حتمی شکل دیں گے۔
انہوں نے کہا کہ بجلی کی ٹرانسمیشن سے متعلق بہت گنجائش ہے، اس میں مل کر آگے بڑھیں گے، ایران پاکستان دوستی کے لیے یہ منصوبہ اہمیت کا حامل ہے۔
کاروباری حلقوں کے مطابق بارڈر مارکیٹ قائم ہونے سے دونوں جانب سرحد پر رہنے والے لوگوں کے لیے روزگار اور کاروبار کے بہتر مواقع پیدا ہوں گے۔