لاپتہ عبدالحفیظ زہری کی کی فیملی کی جانب سے حفیظ زہری کی بعد از رہائی دوبارہ گرفتار کرنے اورجبراً لاپتہ کرنے کے اقدام اور اہلخانہ کو تشدد کا شکار بنانے کے خلاف آج 3 بجے کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرے اعلان کیا گیا ہے۔
اہلخانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں تمام طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے افراد سے گزارش کی گئی کہ اس احتجاجی مظاہرے میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔
لاپتہ عبدالحمید زہری کی صاحبزادی اور عبدالحفیظ زہری کی بھانجی سعیدہ حمید زہری نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر اپنے ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ آج بروزجمعہ کراچی سنٹرل جیل کے سامنے جو کچھ ہوا وہ ہمارے لیے ایک ڈراؤنے خواب جیسا تھا۔
انہوں نے کہا کہ مسلح اہلکار سنٹرل جیل کے اندر سے نکلے ویگو گاڑی والوں کے معاون بن کر ہم پر تشدد کرتے رہے۔ اپنے ماموں کو خون سے لت پت دیکھا۔دس منٹ تک ہم نے مزاحمت کی،بندوق کے بٹ ہم پر وہ مسلسل مارتے رہے۔ ہماری زندگیاں بندوق برداروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ نجانے کب دوبارہ آ کر ہم پر حملہ آوار ہوں۔ کیاریاستیں ایسے چلتی ہیں؟ اپنے شہریوں پر ایسے تشدد کرتی ہیں؟ بغیرجرم بغیر وجہ بغیر وارنٹ کے کسی کو کیسے اٹھا کر لاپتہ کرتی ہیں؟ اور کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس ملک ک شہری ہیں؟
انہوں نے کہاکہ خون سے لت پت یہ میری ماں کے ہاتھوں میں عبدالحفیظ کی قمیض ہے کراچی سنٹرل جیل کا جیل سپرنٹنڈنٹ سے پوچھا جائے کے یہ کون تھے مسلح افراد جو کورٹ کے حکم سے رہائی پانے والے عبدالحفیظ پر حملہ آور ہوکر اسے اغوا کرنے کی کوشش کی ہے۔
سعیدہ حمید نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوکومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کا لیکچر بعد میں دو پہلے ہمیں جواب تو آپکی حکومت میں ہم پر ایسے غیر انسانی مظالم کیا ڈھائے جارہے ہیں ہمارا جرم یا قصور کیاہے؟ ہم بلوچ ہیں اسلیے؟ یہ نام تو ہم چاہ کر بھی اپنے ساتھ مٹا نہیں سکتے؟ آپکے والد کی قمیض بھی بالکل ایسے خون سے لت پت تھی جب اسکی زبان کاٹنے کی کوشش کی گئی تھی نہ؟