کراچی: حفیظ زہری کی دوبارہ گمشدہ کرنے کے اقدام کیخلاف احتجاج کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

لاپتہ عبدالحفیظ زہری کی کی فیملی کی جانب سے حفیظ زہری کی بعد از رہائی دوبارہ گرفتار کرنے اورجبراً لاپتہ کرنے کے اقدام اور اہلخانہ کو تشدد کا شکار بنانے کے خلاف آج 3 بجے کراچی پریس کلب کے سامنے مظاہرے اعلان کیا گیا ہے۔

اہلخانہ کی جانب سے جاری کردہ بیان میں تمام طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے افراد سے گزارش کی گئی کہ اس احتجاجی مظاہرے میں اپنی شرکت کو یقینی بنائیں۔

لاپتہ عبدالحمید زہری کی صاحبزادی اور عبدالحفیظ زہری کی بھانجی سعیدہ حمید زہری نے مائیکرو بلاگنگ سائٹ پر اپنے ایک ویڈیو میں کہا ہے کہ آج بروزجمعہ کراچی سنٹرل جیل کے سامنے جو کچھ ہوا وہ ہمارے لیے ایک ڈراؤنے خواب جیسا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مسلح اہلکار سنٹرل جیل کے اندر سے نکلے ویگو گاڑی والوں کے معاون بن کر ہم پر تشدد کرتے رہے۔ اپنے ماموں کو خون سے لت پت دیکھا۔دس منٹ تک ہم نے مزاحمت کی،بندوق کے بٹ ہم پر وہ مسلسل مارتے رہے۔ ہماری زندگیاں بندوق برداروں کے رحم و کرم پر ہیں۔ نجانے کب دوبارہ آ کر ہم پر حملہ آوار ہوں۔ کیاریاستیں ایسے چلتی ہیں؟ اپنے شہریوں پر ایسے تشدد کرتی ہیں؟ بغیرجرم بغیر وجہ بغیر وارنٹ کے کسی کو کیسے اٹھا کر لاپتہ کرتی ہیں؟ اور کیا ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم اس ملک ک شہری ہیں؟

https://twitter.com/saeeda_hameed/status/1621590268381220864

انہوں نے کہاکہ خون سے لت پت یہ میری ماں کے ہاتھوں میں عبدالحفیظ کی قمیض ہے کراچی سنٹرل جیل کا جیل سپرنٹنڈنٹ سے پوچھا جائے کے یہ کون تھے مسلح افراد جو کورٹ کے حکم سے رہائی پانے والے عبدالحفیظ پر حملہ آور ہوکر اسے اغوا کرنے کی کوشش کی ہے۔

https://twitter.com/saeeda_hameed/status/1621562264733073410

سعیدہ حمید نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹوکومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ دنیا بھر میں انسانی حقوق کا لیکچر بعد میں دو پہلے ہمیں جواب تو آپکی حکومت میں ہم پر ایسے غیر انسانی مظالم کیا ڈھائے جارہے ہیں ہمارا جرم یا قصور کیاہے؟ ہم بلوچ ہیں اسلیے؟ یہ نام تو ہم چاہ کر بھی اپنے ساتھ مٹا نہیں سکتے؟ آپکے والد کی قمیض بھی بالکل ایسے خون سے لت پت تھی جب اسکی زبان کاٹنے کی کوشش کی گئی تھی نہ؟

Share This Article
Leave a Comment