مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازع کے باعث بڑھتے ہوئے جغرافیائی خطرات کے پیش نظر رواں ماہ پاکستان کے بانڈز اور سٹاک مارکیٹ سے غیر ملکی سرمایہ کاری کے انخلاء میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
سٹیٹ بینک آف پاکستان کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 19 مارچ تک غیر ملکی سرمایہ کاروں نے پاکستان کے ٹریژری بلز (ٹی بلز) سے خالص طور پر 17 کروڑ 79 لاکھ ڈالر نکالے، جب کہ فروری میں یہ رقم 3 کروڑ 12 لاکھ ڈالر تھی۔
اعداد و شمار کے مطابق بیرونِ ملک سرمایہ کاروں نے ٹی بلز میں 19.257 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی، تاہم 197 ملین ڈالر نکال لیے۔ اس کے علاوہ انھوں نے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز میں 21 ملین ڈالر اور پاکستان سٹاک ایکسچینج میں اپنے پورٹ فولیو سے 148.7 ملین ڈالر فروخت کیے۔ سٹاک مارکیٹ میں 7.4 ملین ڈالر کی آمد ہوئی، جب کہ اخراج 156.1 ملین ڈالر رہا۔ مجموعی طور پر بانڈز اور سٹاکس میں 27.7 ملین ڈالر کی آمد کے مقابلے میں 375.8 ملین ڈالر کا انخلا ہوا۔ اس طرح غیر ملکی سرمایہ کاروں نے مجموعی طور پر ٹی بلز، پی آئی بیز اور سٹاکس میں 348 ملین ڈالر کی فروخت کی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی مالیاتی منڈیوں سے غیر ملکی سرمایہ کاروں کا انخلا عالمی سطح پر بڑھتے خدشات اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری تنازعہ کی وجہ سے ہوئی۔
جے ایس گلوبل میں مالیاتی امور کے ماہر وقاص غنی نے جنگ کے مالیاتی اور کیپٹل مارکیٹس پر اثرات پر بات کرتے ہوئے بی بی سی کو بتایا اگرچہ تنازع کے حل میں چند دن لگ سکتے ہیں، تاہم ٹی بلز میں غیر ملکی سرمایہ کاری پہلے ہی متاثر ہو چکی ہے، جبکہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر بھی متاثر ہو سکتی ہیں، جس سے روپے پر دباؤ بڑھے گا۔
واضح رہے کہ پاکستان میں فروری کے مہینے میں سب سے زیادہ ترسیلات زر متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب سے پاکستان میں موصول ہوئیں ۔