بلوچستان کے ضلع گوادر بھر میں فروری 2024 میں سیلاب کے بعد امدادی سرگرمیوں میں بڑے پیمانے پر بے ضابطگیوں اور مبینہ کرپشن کے انکشافات نے ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی پر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
متاثرین کی فہرستوں میں رد و بدل، اصل حقداروں کی نامزدگی میں نظرانداز اور غیر متعلقہ افراد کو شامل کیے جانے کے الزامات نے عوامی سطح پر شدید تشویش کو جنم دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، سیلاب سے متاثرہ متعدد خاندانوں نے شکایت کی ہے کہ ان کے نام سرکاری فہرستوں سے غائب ہیں، جبکہ بااثر افراد کے قریبی رشتہ داروں اور من پسند افراد کو امدادی فہرستوں میں شامل کر کے مالی معاونت کے چیک جاری کیے جا رہے ہیں۔
متاثرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے بارہا متعلقہ حکام کو درخواستیں دیں، مگر شنوائی نہ ہونے کے برابر ہے۔
مقامی سماجی حلقوں اور شہریوں نے اس صورتحال کو ‘‘میگا کرپشن’’ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ قدرتی آفت کے متاثرین کے ساتھ اس نوعیت کی ناانصافی نہ صرف افسوسناک بلکہ قابل مذمت ہے۔
ان کا مؤقف ہے کہ امدادی رقوم کی شفاف تقسیم یقینی بنانا ضلعی انتظامیہ کی بنیادی ذمہ داری ہے، جس میں واضح طور پر کوتاہی برتی جا رہی ہے۔
دوسری جانب، بعض شہری نمائندوں نے الزام عائد کیا ہے کہ فہرستوں کی تیاری کے عمل میں میرٹ کو نظر انداز کر کے اقربا پروری کو فروغ دیا گیا، جس کے باعث اصل مستحقین امداد سے محروم رہ گئے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس نہ لیا گیاتو عوام کا حکومتی اداروں پر اعتماد مزید متزلزل ہو سکتا ہے۔
عوامی و سماجی حلقوں نے ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ متاثرین کی فہرستوں کا ازسرِنو جائزہ لیا جائے، شفاف انکوائری کے ذریعے ذمہ داران کا تعین کیا جائے اور بدعنوان عناصر کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ امدادی چیک صرف تصدیق شدہ اور حقیقی متاثرین کو ہی فراہم کیے جائیں تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہو سکیں۔تاحال ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ان الزامات پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا، تاہم عوامی دباؤ میں اضافے کے باعث امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ جلد ہی اس معاملے پر تحقیقات کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔