بلوچستان کے مختلف اضلاع میں گزشتہ شب اور اتوار کے روز مسلح افراد کی جانب سے یکے بعد دیگرے متعدد کارروائیوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن میں شاہراہوں پر کنٹرول حاصل کرنے، پولیس و فوجی چوکیوں پر حملے، ریلوے ٹریک کو نشانہ بنانے اور گیس پائپ لائن کو دھماکے سے نقصان پہنچانے کے واقعات شامل ہیں۔
حکام کی جانب سے ان واقعات کی باضابطہ تصدیق تاحال نہیں کی گئی اور نہ ہی کسی گروہ نے ذمہ داری قبول کی ہے۔
ضلع سبی کے علاقے کٹ منڈائی میں مسلح افراد نے دو گھنٹوں سے زائد عرصے تک مرکزی شاہراہ پر کنٹرول برقرار رکھا۔
مقامی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں نے اس دوران گزرنے والی گاڑیوں کی اسنیپ چیکنگ کی۔
واقعے میں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
اسی دوران ضلع مستونگ کے علاقے کانک میں مسلح افراد نے ایک پولیس چوکی پر قبضہ کر لیا۔
ذرائع کے مطابق اہلکاروں کو تحویل میں لے کر ان کا اسلحہ ضبط کیا گیا جبکہ ایک سرکاری گاڑی کو آگ لگا دی گئی۔
یہاں بھی جانی نقصان کی تصدیق نہیں ہو سکی۔
ضلع نوشکی کے علاقے بٹو لانڈی میں ریلوے ٹریک کو تین مختلف مقامات پر دھماکوں سے نقصان پہنچایا گیا۔
اسی طرح کوئٹہ کے قریب تیرہ میل کے مقام پر بھی دھماکوں کے نتیجے میں ریلوے ٹریک اور ایک پل کو نقصان پہنچا۔
مقامی افراد کے مطابق علاقے میں تین زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں۔
ڈیرہ بگٹی کے علاقے سوئی میں محمد کالونی کے قریب گیس پائپ لائن کو بم دھماکے سے نشانہ بنایا گیا۔
حکام نے نقصان کی نوعیت کے بارے میں کوئی تفصیل جاری نہیں کی۔
مقامی ذرائع کے مطابق حملوں کا آغاز گزشتہ شب پنجگور سے ہوا، جہاں نامعلوم مسلح افراد نے اُن افراد کو نشانہ بنایا جنہیں عوامی حلقے حکومتی حمایت یافتہ گروہوں سے جوڑتے ہیں۔
اس کے بعد سبی، مستونگ، نوشکی، کوئٹہ اور ڈیرہ بگٹی میں بھی کارروائیاں رپورٹ ہوئیں، جس سے یہ تاثر ابھرا ہے کہ یہ واقعات ممکنہ طور پر ایک منظم سلسلے کا حصہ ہو سکتے ہیں۔
اتوار کے روز دو مزید اضلاع میں پاکستانی فورسز کو نشانہ بنایا گیا۔
کیچ کے علاقے شاپک میں فوج کے مرکزی کیمپ پر بڑی تعداد میں مسلح افراد نے حملہ کیا، جہاں کم از کم 30 منٹ تک شدید فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
اسی دوران ضلع واشک کے علاقے بسیمہ (روتینکو) میں بھی ایک فوجی چوکی پر 45 منٹ سے زائد حملہ جاری رہا۔
دونوں حملوں میں جانی نقصان کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔