وی بی ایم پی کا احتجاجی کیمپ جاری، جبری لاپتہ ممتاز بلوچ کے لواحقین کی شرکت

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے خلاف وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز (وی بی ایم پی) کے زیر اہتمام قائم احتجاجی کیمپ آج بروز اتوار تنظیم کے ایگزیکٹو کمیٹی کے رکن نیاز محمد کی سربراہی میں کوئٹہ پریس کلب کے سامنے 6118ویں روز بھی جاری رہا۔

اس موقع پر کامریڈ منظور بلوچ سمیت مختلف مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے کیمپ کا دورہ کیا اور لاپتہ افراد کے لواحقین سے اظہارِ یکجہتی کیا۔

آج جبری لاپتہ طالب علم ممتاز بلوچ کی بھابی ساجدہ بلوچ نے احتجاجی کیمپ میں شرکت کر کے اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا اور ممتاز بلوچ کی جبری گمشدگی کی تفصیلات وی بی ایم پی کو فراہم کیں۔ انہوں نے بتایا کہ ممتاز بلوچ ولد دلبود، جامعہ بلوچستان کے شعبہ بلوچی کے پانچویں سمسٹر کے طالب علم ہیں، جنہیں 18 مارچ کو تربت کے علاقے کوالوئی بازار سے سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لینے کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔

انہوں نے شکایت کی کہ تاحال نہ تو ان کی گرفتاری کی وجوہات بتائی جا رہی ہیں اور نہ ہی ان کی خیریت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کی جا رہی ہیں، جس کے باعث خاندان شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔

وی بی ایم پی کی جانب سے ساجدہ بلوچ کو یقین دہانی کرائی گئی کہ ممتاز بلوچ کے کیس کو متعلقہ حکومتی کمیشن اور صوبائی حکومت کے سامنے اٹھایا جائے گا اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ہر فورم پر آواز بلند کی جائے گی۔

وی بی ایم پی کے چیئرمین نصراللہ بلوچ نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ ممتاز بلوچ کو فوری طور پر باحفاظت بازیاب کیا جائے۔ اگر ان پر کوئی الزام ہے تو انہیں منظرِ عام پر لا کر عدالت میں پیش کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندان کو ذہنی کرب اور اذیت سے نجات مل سکے۔

Share This Article