بلوچستان کے علاقے نصیر آباد میں پاکستانی فورسز نے دوران جارحیت متعدد افراد کو حراست میں لیکر جبری لاپتہ کردیا جبکہ کراچی سے فورسز ہاتھوں جبری لاپتہ نوجوان عاصم اصغر کی گرفتاری ظاہرکردی گئی۔
ضلع نصیر آباد کے علاقے ربی میں فورسز نے آپریشن کے نام سے دوران جارحیت متعدد افراد کو حراست میں لے لیا جبکہ مقامی افراد کے مطابق گھروں سے قیمتی سامان اور موٹرسائیکلیں بھی ساتھ لے جائی گئی۔
علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ فورسز نے علاقے کا محاصرہ کیا اور گھر گھر تلاشی کا عمل شروع کیا۔
اس دوران کئی افراد کو حراست میں لیا گیا جبکہ بعض خاندانوں نے الزام لگایا کہ ان کے گھروں سے نقدی، زیورات اور دیگر قیمتی اشیاء بھی ضبط کی گئیں۔
دوسری جانب کراچی کے بلوچ اکثریتی علاقے ملیر سے جبری طور پر لاپتہ کیے گئے نوجوان عاصم اصغر کی گرفتاری کو سی ٹی ڈی کی جانب سے ایک متنازع اور جعلی کارروائی قرار دیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق عاصم اصغر کو 16 مارچ کو ملیر کے علاقے شرافی گوٹھ میں ایک فٹبال میچ کے دوران دو سو سے زائد تماشائیوں کی موجودگی میں پاکستانی فورسز اہلکاروں نے حراست میں لیا تھا، جس کے بعد وہ لاپتہ ہوگئے تھے اور ان کے بارے میں کوئی معلومات سامنے نہیں آئی تھیں۔
تاہم آج 29 مارچ کو محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) نے ایک مبینہ چھاپے کے دوران عاصم اصغر کی گرفتاری ظاہر کرتے ہوئے انہیں بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کا کارکن قرار دیا ہے۔
مقامی ذرائع اور اہل خانہ کا کہنا ہے کہ عاصم اصغر پہلے ہی 16 مارچ سے ریاستی تحویل میں تھے، اس لیے ان کی گرفتاری کو ایک نیا واقعہ ظاہر کرنا حقائق کے منافی ہے ۔
انسانی حقوق کے کارکنان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات ماضی میں بھی رپورٹ ہوتے رہے ہیں، جہاں جبری طور پر لاپتہ کیے گئے افراد کو بعد ازاں مختلف مقدمات میں ظاہر کر کے ان پر الزامات عائد کیے جاتے ہیں۔
اہل خانہ نے عاصم اصغر کی فوری اور غیر مشروط رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں عدالت میں پیش کیا جائے اور جبری گمشدگی کے اس واقعے کی شفاف تحقیقات کی جائیں۔