پاکستانی فورسز پر 14 حملوں میں 18 اہلکار ہلاک، پوسٹوں پر کنٹرول اور اسلحات ضبط کئے، بی ایل اے

ایڈمن
ایڈمن
8 Min Read

بلوچ لبریشن آرمی( بی ایل اے) کے ترجمان جیئند بلوچ نے میڈیا کو جاری کردہ اپنے ایک بیان میں پاکستانی فورسز پر 14 حملوں میں 18 اہلکاروں کی ہلاکت ، فوجی پوسٹوں پر کنٹرول اور اسلحات ضبط کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی۔

ترجمان کے مطابق بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے 19 مارچ سے 28 مارچ کے دوران واشک، خاران، قلات، مستونگ، سوراب، خضدار، کوئٹہ، تربت اور بارکھان میں مختلف نوعیت کی 14 کارروائیاں کیں، جن میں قابض فوج کے 1 8 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔ سرمچاروں نے چیک پوسٹوں پر کنٹرول حاصل کرکے اہلکاروں کو حراست میں لے کر اسلحہ و جنگی سامان ضبط کیا۔ ان کارروائیوں کے دوران قابض فوج کے ساتھ جھڑپوں میں بی ایل اے کے دو سرمچار شہادت کے مرتبے پر فائز ہوگئے۔

انہوں نے کہا کہ 19 مارچ کو سرمچاروں نے واشک میں سی پیک روٹ پر تحصیل کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے مرکزی کیمپ کو راکٹوں و دیگر ہتھیاروں سے نشانہ بنا کر دشمن کو جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا، جبکہ قریب واقع لیویز پوسٹ پر کنٹرول حاصل کرکے اہلکاروں کو حراست میں لے کر ان کا اسلحہ اپنی تحویل میں لیا۔ ان اہلکاروں کو بعد ازاں رہا کردیا گیا۔ اسی روز خاران کے علاقے برشونکی میں قابض پاکستانی فوج و خفیہ اداروں کی تشکیل کردہ نام نہاد ڈیتھ اسکواڈ کے ٹھکانے پر حملہ کیا گیا۔ حافظ ممتاز کی سرپرستی میں چلنے والے مسلح جتھے کے ارکان کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا، جبکہ جھڑپوں میں سنگت عبداللہ بلوچ عرف ساربان شہید ہوگئے۔ قلات کے علاقے چپر میں سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے پیدل اہلکاروں کو حملے میں نشانہ بنا کر نقصانات سے دوچار کیا اور پسپا ہونے پر مجبور کردیا۔ مستونگ کے علاقے گرگینہ میں کلی پسند خان کے مقام پر سرمچاروں نے اس وقت گھات لگا کر حملہ کیا جب دشمن فوج علاقے میں جارحیت کی غرض سے پیش قدمی کررہی تھی۔ قابض فوج کی دو گاڑیاں براہِ راست حملے کی زد میں آئیں، جس کے نتیجے میں 3 دشمن اہلکار موقع پر ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ قابض فوج نے اس دوران کواڈ کاپٹرز کا استعمال کیا جن میں سے ایک کو سرمچاروں نے مار گرایا، جبکہ جھڑپوں میں سنگت دُرا زخمی ہوگئے۔

ان کے مطابق 20 مارچ کو سرمچاروں نے سوراب میں کسٹم پوسٹ پر کنٹرول حاصل کرکے اہلکاروں کو گرفتار کرکے ان کا اسلحہ ضبط کیا اور پیش قدمی کرنے والے قابض فوج کے قافلے کو حملے میں نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دشمن کو جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ بعد ازاں قابض فوج کے متعدد گاڑیوں کے قافلے کو انجیرہ، زہری کے مقام پر اس وقت گھات لگا کر نشانہ بنایا گیا جب وہ سوراب سے پیش قدمی کی کوشش کررہا تھا۔ اس حملے میں قابض فوج کے 8 اہلکار ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے، جبکہ بزدل فوج اپنے ہلاک اہلکاروں کی لاشیں چھوڑ کر پسپا ہوگئی۔ اسی روز خضدار کے علاقے بلبل، زہری میں سرمچاروں نے قابض فوج کے قافلے میں شامل ٹرک کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنا کر جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ 21 مارچ کو بلوچ لبریشن آرمی کے سرمچاروں نے عید الفطر کے دن خاران کے علاقے لجے کا کنٹرول حاصل کر کے عیدگاہ میں عوام سے خطاب کیا۔ اسی روز سنگت یعقوب بلوچ عرف دُرا، جو گرگینہ کے مقام پر قابض فوج کے ساتھ جھڑپوں میں شدید زخمی ہو گئے تھے، زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کرگئے۔

انہوں نے کہا کہ 23 مارچ کو قلات کے علاقے منگچر میں سرمچاروں نے قابض فوج کے بم ڈسپوزل اسکواڈ کے پیدل اہلکاروں کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تینوں اہلکار موقع پر ہلاک ہوگئے، جبکہ بعد ازاں پیش قدمی کرنے والی قابض فوج کی بکتر بند گاڑی کو راکٹ و دیگر ہتھیاروں سے نشانہ بنا کر مزید نقصانات سے دوچار کیا۔

تنظیم کے مطابق 26 مارچ کو سرمچاروں نے کوئٹہ سے متصل ڈغاری کے علاقے میں زڑخو کے مقام پر قابض فوج کے پیدل اہلکاروں کو اس وقت آئی ای ڈی حملوں میں نشانہ بنایا جب وہ نئے تعمیر ہونے والے اپنے پوسٹ کے مقام پر پہنچے تھے۔ دھماکے میں 2 اہلکار موقع پر ہلاک اور ایک شدید زخمی ہوا۔

ترجمان نے کہا کہ 27 مارچ کو تربت میں گنہ کے مقام پر سرمچاروں نے قابض پاکستانی فوج کے پوسٹ پر گرنیڈ لانچر سے متعدد گولے داغ کر دشمن فوج کو جانی و مالی نقصانات سے دوچار کیا۔

انہو ں نے کہا کہ 28 مارچ کو سرمچاروں نے اتوار کی شب بارکھان میں گیرپٹی کے مقام پر قابض پاکستانی فوج کے پوسٹ کو حملے میں نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں قابض فوج کا ایک اہلکار ہلاک ہوگیا جبکہ دشمن کو مزید جانی و مالی نقصانات کا سامنا کرنا پڑا۔ اسی روز سوراب میں سرمچاروں نے کوئٹہ-کراچی شاہراہ کا کنٹرول حاصل کرکے گھنٹوں تک اسنیپ چیکنگ کی جبکہ اس دوران ایک آئی ایس آئی ایجنٹ کو شناخت کے بعد ہلاک کردیا گیا۔ دریں اثناء سوراب کے علاقے گدر میں قابض پاکستانی فوج کے اہلکاروں کو اس وقت ٹریپ کرکے گرنیڈ حملے میں نشانہ بنایا گیا جب وہ ایک فارم ہاؤس کو بطور چیک پوائنٹ استعمال کرنے کیلئے پہنچے تھے۔ دھماکے میں دو اہلکار شدید زخمی ہوگئے۔

بیان میں کہا گیا کہ قابض فوج کے خلاف ان کارروائیوں کے دوران تنظیم کے دو باہمت سرمچاروں نے مادرِ وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ شہید عبداللہ رودینی بلوچ عرف ساربان ولد ناظر علی رودینی، سکنہ خدابادان، پنجگور، بلوچستان یونیورسٹی سے بی ایس انگلش لٹریچر کے فارغ التحصیل تھے۔ انہوں نے 21 مئی 2023 کو بطور شہری گوریلا شمولیت اختیار کی اور جولائی 2025 میں پہاڑی محاذ سنبھالا۔ آپ 19 مارچ 2026 کو خاران کے علاقے لجے میں دشمن سے لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ دوسرے شہید سرمچار سنگت یعقوب بلوچ عرف دُرا ولد گل شیر بلوچ، سکنہ دشت، تربت تھے، جنہوں نے سن 2024 میں تنظیم میں شمولیت اختیار کی اور شور پارود، قلات و مستونگ کے محاذوں پر خدمات سرانجام دیں۔ آپ 21 مارچ 2026 کو مستونگ کے علاقے گرگینہ میں قابض فوج کے ساتھ ہونے والی شدید جھڑپ میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔

Share This Article