پنجگور میں مسلح حملے اور جھڑپیں، ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، متعدد زخمی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان کے ضلع پنجگور میں گزشتہ شب مختلف علاقوں میں مسلح حملے ، جھڑپوں ، فائرنگ اور دھماکوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب گزشتہ دو ماہ کے دوران علاقے میں جبری گمشدگیوں اور تشدد زدہ لاشوں کے ملنے کے واقعات کے باعث پہلے ہی شدید بے چینی پائی جا رہی تھی۔

پولیس کے مطابق خدابادان میں مسلح افراد کی بڑی تعداد نے ارشد نامی شخص کے گھر پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں امداد ابراہیم، برہان ارشد اور عزیز وزیر ہلاک ہوگئے۔ حملہ آوروں نے گھر کے تین کمروں کو آگ لگا دی جبکہ مین گیٹ اور چار دیواری کو بھی نقصان پہنچا۔

اسی علاقے کے سراوان خدابادان میں بہرام عرف چالاک کے گھر پر بھی شدید فائرنگ کی گئی، تاہم کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

گرمکان میں شاہد نامی شخص کے گھر پر حملے میں عامر ہلاک جبکہ غفار اور ظفیر احمد زخمی ہوگئے۔ حملہ آوروں نے گھر کو شدید نقصان پہنچایا اور تین گاڑیوں کو نذرِ آتش کر دیا۔

اسی علاقے میں کلیم اللہ کے گھر پر بھی حملہ کیا گیا جہاں تین گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی اور مکان کو نقصان پہنچا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق جھڑپوں کے دوران 6 مسلح حملہ آور بھی مارے گئے جن کی لاشیں ٹیچنگ اسپتال منتقل کر دی گئیں۔ مجموعی طور پر ہلاکتوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق حملے ان علاقوں میں کیے گئے جہاں مبینہ طور پر ریاستی حمایت یافتہ مسلح گروہوں جنہیں مقامی طور پر “ڈیتھ اسکواڈز” کہا جاتا ہے کے ٹھکانے موجود تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق فٹبال چوک کے قریب پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو بھی نشانہ بنایا گیا جس کے بعد جھڑپیں مزید شدت اختیار کر گئیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ دو ماہ میں پنجگور سے 25 سے زائد بلوچ نوجوانوں کی جبری گمشدگی اور تشدد زدہ لاشوں کے ملنے کے واقعات رپورٹ ہوئے تھے، جس کے باعث علاقے میں غم و غصہ بڑھ رہا تھا۔

تازہ حملوں نے اس کشیدگی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

رات بھر دھماکوں اور فائرنگ کی آوازوں سے شہریوں میں شدید خوف پھیل گیا۔ تجارتی مراکز بند رہے جبکہ سڑکیں سنسان رہیں۔

سیکیورٹی فورسز کی اضافی نفری تعینات کر دی گئی ہے اور پولیس نے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

تاحال کسی تنظیم نے ان حملوں اور جھڑپوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے، جبکہ حکام کی جانب سے بھی کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔

Share This Article