ہرنائی میں کشیدگی کی وجہ سیکورٹی فورسز قرار، حکومت کی 17 نکاتی رپورٹ پیش

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچستان حکومت کی جانب سے ہرنائی واقعے کی تحقیقات کے لئے قائم کی جانیوالی تحقیقاتی کمیٹی نے 17 نکات پر مشتمل اپنی رپورٹ جاری کردی ہے۔

کمیٹی میں چیئرمین کمشنر سبی ڈویژن بالاچ عزیز، ممبر ڈی آئی جی سبی رینج مسرور عالم کلاچی، ڈپٹی کمشنر ہرنائی رفیق ترین، ایس پی ہرنائی محمد ہاشم شامل تھے جن کے دستخظ سے رپورٹ محکمہ داخلہ کے حوالے ارسال کردی گئی۔

رپورٹ میں واقعے سے لیکر تمام صورتحال علاقے کے حالات واقعات اور کشیدگی سمیت پائی جانیوالی صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے اسکے حل کیلئے 8نکاتی تجاویز پیش کی گئی کہ تحقیقاتی کمیٹی کے تحقیق کے دوران ضلعی انتظامیہ سمیت سیکورٹی فورسز اور عام عوام کے درمیان ہم آہنگی کا فقدان پایاگیاہے، اسلئے ان تینوں کے درمیان خوست شاہرگ اور ہرنائی میں ایک ماہانہ اجلاس منعقد کیا جائے تاکہ اعتماد سازی کی بحالی کے ذریعے اہمیت کے حامل مسائل غلط فہمیوں کو دور کرنے اور اعتماد کے فروغ کیلئے تبادلہ خیال کرکے انکا حل نکالا جائے اگر ممکن ہے تو مقامی انتظامیہ کی مشاورت سے فوج، ایف سی کی پوسٹوں کو دوسری جگہ منتقل کیا جاسکتا ہے جو وہ مناسب سمجھیں اور وہ مقامی آبادی سے دور ہوں تاکہ فائرنگ یا گولہ باری کے دوران شرپسندوں اور فورسز کے درمیان واقع میں مقامی آبادی محفوظ رہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مقامی آبادی روایتی قدامت پسند ماحول میں رہ رہی ہے اس لئے مقامی آبادی کی جانب سے ڈرون پروازوں کو برداشت نہیں کیا جاتا تاکہ ڈرون لوگوں کے گھروں پر نہ اُڑائے جائیں کہ اُنکی راز داری کو یقینی بنایا جاسکے۔ سیکورٹی کے تقاضوں کے مطابق انہیں آبادی سے دور کیا جاسکتا ہے کسی بھی آپریشن یا فلاحی سرگرمی سے قبل مقامی انتظامیہ کو ایف سی، فوج کے ذریعے آن بورڈ لینا چاہئے تاکہ علاقے کے لوگ اپنے گھروں میں محفوظ رہیں۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ لوگوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کو مقامی انتظامیہ کے توسط سے ممکن بناتے ہوئے ڈاکٹرز اور اساتذہ کی اپنے اداروں میں موجودگی یقینی بنائیں۔خفیہ خدمات کی مدد سے رقوم کی خورد برد میں مصروف لوگوں کا سراغ لگا کر انہیں پکڑنے کیلئے طریقہ کار وضع کیا جائے اور لیویز تھانہ خوست کو ایڈجسٹ کیا جائے جو اس وقت اندرون خانہ ہے اور آرمی کمپاؤنڈ اپنے حصے کو الگ کرے تاکہ لوگوں کو اپنی روزمرہ کی ضروریات پوری کرنے میں آسانی ہوں، ضروریات اور شکایات کا اندراج ہونا چاہیے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ہرنائی ضلع کے علاقے میں کوئلے سے لوڈ ٹرکوں کو ہائی ویز پر لیویز کا تحفظ فراہم کرنے کیلئے گشت بڑھایا جائے۔

Share This Article
Leave a Comment