دالبندین سے جبری لاپتہ رحیمہ بلوچ کی گرفتاری 4 ماہ بعد ظاہر کردی گئی

ایڈمن
ایڈمن
2 Min Read

بلوچستان کے علاقے دالبندین سے جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے گئے بلوچ خاتون رحیمہ بی بی کی 4 ماہ بعد گرفتاری ظاہر کردی گئی ۔

پاکستانی فورسز نے رحیمہ بی بی بلوچ اور ان کے بھائی کو دالبندین میں ان کے گھر پر چھاپے کے دوران جبری لاپتہ کیا تھا۔

دالبندین سے اپنے چھوٹے بھائی سمیت جبری لاپتہ ہونے والی رحیمہ بی بی بنت محمد رحیم کو آج کوئٹہ میں منظرِ عام پر لا کر “خودکش بمبار” کے سہولت کار کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ ان کے ہمراہ جبری لاپتہ ہونے والے بھائی زبیر تاحال لاپتہ ہیں۔

رحیمہ بی بی بنت عبدالرحیم اور ان کے بھائی زبیر کو گذشتہ سال 9 دسمبر 2025 کو پاکستانی فورسز ان کے گھر سے حراست میں لے کر اپنے ہمراہ لے گئے تھے، جس کے بعد دونوں منظرِ عام پر نہیں آسکے تھے۔

تاہم آج 4 ماہ بعد پاکستانی فوج کے حمایت یافتہ سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور سرکاری نیوز چینلز پر ان کی مبینہ گرفتاری اور اعترافی ویڈیو جاری کرتے ہوئے انہیں مبینہ خودکش بمبار و سہولت کار قرار دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ رحیمہ بی بی اور ان کے بھائی کی جبری گمشدگی کے خلاف اور ان کی باحفاظت بازیابی کے لیے ان کے لواحقین کے ہمراہ دالبندین کے شہریوں نے احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے دھرنا دیا تھا۔

لواحقین نے اس دوران کوئٹہ اور ایران کو ملانے والی شاہراہوں پر رکاوٹیں کھڑی کر کے ٹریفک کے لیے بند کر دیا تھا، تاہم حکام کی یقین دہانی پر دھرنا ختم کر دیا گیا تھا، حکام کی یقین دہانی کے باوجود دونوں بہن بھائی منظرِ عام پر نہیں آسکے تھے۔

Share This Article