ضلع ہرنائی میں خوست دھرنا کمیٹی کے رہنماؤں نیشنل ڈیموکریٹک موومنٹ کے صوبائی صدر احمد جان خان، عوامی نیشنل پارٹی کے ضلعی صدر ولی داد میانی، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے نصرت اللہ، پشتون تحفظ موومنٹ کے وہاب خان، جمعیت علما اسلام کے حافظ احسان الحق، تحریک انصاف کے عبدالحکیم نے اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ 14اگست کو ضلع ھرنائی کے خوست میں ھونے والے واقعے اور نوجوان سیاسی کارکن خالقداد بابر کو قتل و دیگر کو زخمی کرنے،کول مائینز پر بھتہ خوری اور دیگر عوام دشمن اقدامات کیخلاف احتجاجی تحریک اور دھرنا کمیٹی کے مطالبات کو تسلیم کرنے کے حکومتی اعلان کا ایک ماہ ھوچکا ہے اور حکومتی اعلان کے نتیجے میں احتجاجی تحریک اور دھرنا کو ایک ماہ کیلئے موخر کیا گیا تھا لیکن اس سلسلے میں حکومتی اعلان پر آج تک کوئی عملدرآمد نہیں ہوا ہے۔
ان کا کہناتھا کہ حکومتی کمیٹی نے اس سلسلے میں اپنی سفارشات بھی تیارنہیں کی ہیں جبکہ خالق داد بابر کے قاتلوں کی عدم گرفتاری، حکومتی فورسز نے ضلع ہرنائی خوست کے حالات عوام کیلئے مزید خراب کرکے اشتعال انگیزی، انتقامی کارروائیاں اور درجن بھر غیر قانونی چیک پوسٹیں قائم کرکے اس پر عوام کو ہراساں کرکے ان کی تذلیل کرنے،ڈرون کیمروں کے ذریعے چادر چاردیواری کے تقدس کی پامالی، عوامی آبادی میں قائم غیر قانونی مورچوں سے بھاری اسلحے سے گولہ باری، کول مائنز پر بھتہ خوری، سول انتظامیہ کو بدستور مفلوج رکھنے اور فورسز کے کیمپوں میں غیر آئینی و غیر قانونی جرگوں،اجلاسوں کا انعقاد اور بیگناہ و نہتے عوام کو اٹھاکر ان پر تشدد کرنے کے عوام دشمن اقدامات جاری ہیں۔
فورسز کی مظالم وزیادتیوں کا حکومت کی جانب سے کوئی نوٹس نہیں لیا جارہا ہے جس سے خالق داد بابر کے لواحقین و خاندان، عوام، سیاسی کارکنوں، تاجروں،کول مائینز اونرز، مزدوروں کی غم و غصہ اور تشویش میں مزید اضافہ ہوا ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر حکومت، حکومتی مذاکراتی کمیٹی اور کمشنر سبی ڈویژن کی سربراہی میں قائم کمیٹی سے مطالبہ کیا ھے کہ وہ طے شدہ معاملات اور مطالبات کی فوری حل کیلئے اقدامات اٹھاکر خالق داد بابر کے قاتلوں کو گرفتار کرکے ضلع میں قانون کی حکمرانی قائم کرے اور عوام کو موجودہ اذیت ناک صورتحال سے نجات دلائیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ اگر حکومت نے ضلع ھرنائی کی موجودہ اذیت ناک صورتحال پر مزید خاموشی اور مطالبات پر عملدرآمد میں تاخیری حربوں کا عوام دشمن طرزعمل مزید جاری رکھا تو دھرنا کمیٹی اور سیاسی پارٹیاں عوام کی تاہید و حمایت سے ایک بار پھر موثر جمہوری احتجاجی تحریک شروع کرنے پر مجبور ھونگے۔