ہرنائی میں پاکستانی فوج کا مظاہرین پر فائرنگ، اے این پی کارکن ہلاک
بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں پاکستانی فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کرکے ایک شخص کو قتل جبکہ بچوں سمیت متعدد افراد کو زخمی کردیا ہے۔
علاقہ مکین فورسز کی جانب سے عام آبادی پر فائرنگ کیخلاف کیمپ کے سامنے احتجاج کر رہے تھے کہ ان پر اندھا دھند فائرنگ کی جس سے ایک شخص موقع پر ہلاک جبکہ بچوں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے۔
ہلاک ہونے والے شخص کی شناخت خالق داد کے نام سے ہوئی ہے جس کے بارے میں بتایا جارہا ہے اس کا تعلق سیاسی پارٹی عوامی نیشنل پارٹی سے ہے۔
واضع رہے کہ گذشتہ شب مسلح افراد نے پاکستان فوج کے کیمپ اور فوجی قافلے پر حملہ کیا جس کے بعد فورسز نے عام آبادی پر فائرنگ کی جس سے دو افراد زخمی ہوگئے۔ واقعے کیخلاف علاقہ مکینوں نے آج کیمپ کے سامنے احتجاج کیا جس پر فورسز نے مظاہرین پر فائرنگ کرکے ایک شخص کو قتل جبکہ متعدد کو زخمی کردیا ہے۔
گذشتہ شب فورسز پر ہونے والے حملے کی ذمہ داری بی ایل اے کے آزادبلوچ کی جانب سے قبل کی گئی تھی جس میں انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ہمارے سرمچاروں نے 12 اگست 2022 کی شب کو 9 بجے کے قریب مقبوضہ بلوچستان کے علاقے شاہرگ کوسٹ میں قابض پاکستانی فورسز کی چوکی پر راکٹ لانچروں اور دوسرے خودکار ہتھیاروں سے حملہ کیا ہے۔
آزاد بلوچ نے کہا حملے کے نتیجے میں پاکستانی فورسز کے اہلکار ہلاک و زخمی ہوگئے جس کی ذمہ داری ہماری تنظیم بلوچ لبریشن آرمی قبول کرتی ہے۔
پشتون رہنماؤں کی جانب سے ہرنائی میں نہتے مقامی مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ کی شدید الفاظ میں مذمت کی جارہی ہے۔
اس سلسلے میں محسن داوڈ نے واقعہ کے متعلق سماجی رابطے کی ویب سائیٹ ٹویٹر پر لکھا ہے کہ ہرنائی بلوچستان میں مظاہرین پر فورسز کی اندھا دھند فائرنگ کی شدید مذمت کرتے ہیں جس کے نتیجے میں اے این پی کا رکن خالقداد جاں بحق اور متعدد زخمی بھی ہوئے ہیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل فوٹیج میں زخمی ہونے والے افراد کو دیکھا جاسکتا ہے جن میں بچے بھی شامل ہیں۔ ان ویڈیوز میں شدید فائرنگ کی آواز بھی سنی جاسکتی ہے۔ متاثرین میں موجود افراد کا کہنا ہے کہ فورسز نے فائرنگ کیساتھ مارٹر گولے بھی فائر کیے۔