بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے علاقے خوست میں پاکستانی فورسز کیخلاف گذشتہ تین مہینوں سے جاری احتجاجی دھرنا ختم کردیا گیا۔
یہ دھرنا خوست میں 13اور 14 اگست کو فورسز کی فائرنگ سے نوجوان سیاسی کارکن خالقداد بابرکے قتل اوربچوں سمیت دیگر کو گولیاں لگنے کے واقعہ کے ردعمل پر شروع کیا گیاتھا۔
علاقہ مکین فورسز کی جانب سے عام آبادی پر فائرنگ کیخلاف کیمپ کے سامنے احتجاج کر رہے تھے کہ فورسزنے ان پر اندھا دھند فائرنگ کی جس سے پارٹی عوامی نیشنل پارٹی کا ایک کارکن خالق داد موقع پر ہلاک جبکہ بچوں سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے تھے۔
ذرائع کے مطابق تین مہینوں سے جاری اس احتجاجی دھرنے کو بلوچستان کے کٹھ پتلی مشیر داخلہ ضیااللہ لانگو اوررکن بلوچستان اسمبلی اصغر خان ترین کی ہرنائی آمد اورخوست میں جاری دھرنا کمیٹی سے مذاکرات کے بعد ختم کردیا گیا۔
مقامی ذرائع بتاتے ہیں کہ خوست میں 52 روز سے جاری دھرنا کمیٹی اور مشیر داخلہ کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوگئے اورمذاکرات کامیاب ہونے کے بعد دھرنا کمیٹی نے دھرنا ختم کرنے کا اعلان کردیا۔