بلوچ ویمن فورم نے حسینہ بلوچ کی جبری گمشدگی پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ حسینہ بلوچ ضلع آواران کی رہائشی اور کراچی میں مقیم تھیں۔
مقامی ذرائع کے مطابق 16 اپریل 2026 کو انہیں مبینہ طور پر سیکیورٹی فورسز نے حراست میں لیا اور اس کے بعد سے ان کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ اہلِ خانہ مسلسل بے خبری اور کرب میں مبتلا ہیں۔
فورم کے مطابق خواتین کو نشانہ بناتے ہوئے جبری گمشدگی کے واقعات میں اضافہ ایک خطرناک رجحان ہے، جو نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ متاثرہ خاندانوں کو طویل اذیت، غیر یقینی اور نفسیاتی دباؤ میں مبتلا کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ حسینہ بلوچ کی فوری بازیابی اور ان کے مقام کی شفاف معلومات فراہم کی جائیں۔ مزید کہا گیا کہ ریاستی ادارے قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں اور خواتین سمیت کسی بھی فرد کو قانونی دائرے سے باہر کارروائی کا نشانہ نہ بنایا جائے۔
بلوچ ویمن فورم نے قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ خواتین کی جبری گمشدگی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو سنجیدگی سے لیں اور اس پر فوری ردعمل دیں۔