بلوچستان کے ضلع مستونگ کے علاقے کردگاپ اور گرگینہ میں گزشتہ کئی دنوں سے فوجی جارحیت جاری ہے۔
مقامی ذرائع کے مطابق اس دوران بیس سے زائد افراد کو حراست میں لے کر جبری لاپتہ کیا گیا ہے، جن میں طلباء، زمیندار، اساتذہ، سرکاری ملازمین کے ساتھ لیویز اور ایف سی اہلکار بھی شامل ہیں۔
جبری گمشدگی کا نشانہ بنائے گئے درجنوں افراد میں اب تک 16 کی شناخت ہوگئی ہے ۔
کردگاپ گرگینہ سے غوث بخش سرپرہ اور اس کے بھائی ساجد سرپرہ کو گرفتار کر کے جبری طور پر لاپتہ کیا گیا۔ اسی طرح کلی رودینی سے لیویز رسالدار خان محمد رودینی اور ان کے بھائی غلام ربانی رودینی (ایف سی اہلکار) کو بھی حراست میں لیا گیا۔
کردگاپ سے پرویز سرپرہ، عبدالرسول سرپرہ، بابو سفر خان، عبدالجبار، زبیر، زیشان، نقیب اللہ، محب اللہ اور حسنین سمیت متعدد افراد کو گرفتار کر کے لاپتہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق چند روز قبل کردگاپ سے تعلق رکھنے والے تین بھائیوں اختیار احمد، مختیار احمد اور غلام سرور ولد میجر درمحمد سرپرہ کو کوئٹہ سے حراست میں لے کر جبری لاپتہ کیا گیا تھا۔
آپریشن کے دوران پہاڑوں پر اندھا دھند گولہ باری کی گئی جس سے مال مویشی اور چرواہے متاثر ہوئے، تاہم نقصانات کی تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔ اس کے علاوہ کردگاپ میں بعض زمینداروں کے ٹیوب ویلوں کے سولر پلیٹس پر فائرنگ کر کے نقصان پہنچایا گیا اور کمروں کو بھی مسمار کر دیا گیا ہے۔
علاقائی ذرائع کے مطابق کردگاپ کے مختلف علاقوں میں چھاپے مارے جا رہے ہیں اور اب تک درجنوں نوجوانوں کو حراست میں لے کر جبری لاپتہ کیا جا چکا ہے۔ ان میں سے غوث بخش سرپرہ اور ساجد سرپرہ کی شناخت پہلے سے ہوچکی ہے۔