طاقتور لوگ کسی کی بات نہیں مانیں گے، علی محمد قلندرانی کا وی بی ایم کیمپ میں خطاب

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

وائس فار بلوچ مسنگ پرسنز کے احتجاجی کیمپ سے علی محمد قلندرانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کے حوالے سے قائم پارلیمانی کمیشن کے سربراہ سردار اختر مینگل اور دیگر کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ 18 فروری 2011میں ایف سی اور اے ٹی ایف کا آپریشن ہوا جس میں ہمارے جوان اور پیر بزرگ تقریباً 35، 40 افراد کو لے کر گئے، بعد میں کچھ دنوں اور مہینوں میں کچھ لوگوں کو چھوڑا، جس میں 10 افراد تا حال لاپتہ ہیں۔ جس میں میرے تین بیٹے ہیں، باقی میں میرے بھانجا اور بھتیجا اور دیگر بھی شامل ہیں۔ اس سے پہلے بھی 2010میں بھی خضدار سے ہمارے بندے لے گئے، کوئٹہ سے بھی لے گئے، ہم دلبرداشتہ ہوگئے اور مایوس ہوگئے ہیں، اب ہمارے دل میں تھوڑی امید جاگ گئی ہے کہ شاید اب کچھ ہوگا۔

ان کا کہنا تھاکہ 2011 میں آپریشن ہوا، 2012میں ہمارے اوپر سویلین مسلط کیے گئے، توتک میں ڈیتھ اسکواڈ کے بندے بٹھائے گئے، پورا علاقہ یرغمال ہوا، کوئی ریاستی رٹ نہیں تھی وہاں پر، 2012سے 2013تک یہ لوگ اپنی مان مانیاں کرتے رہے، 2014 کو توتک سے مسخ شدہ لاشیں برآمد ہوئیں، اور انہی کے کیمپوں سے برآمد ہوئیں جو لوگ وہاں پر رہائش پذیر تھے، کوئی ڈیڑھ سے دو سو کے قریب لاشیں تھیں جو برآمد ہوئیں، ہمیں بھی وہاں جانے نہیں دیتے تھے، آج تک ان کا ڈی ا ین اے ٹیسٹ بھی نہیں ہوا اگر ہوا بھی تو منظر عام پر نہیں آیا، ہمیں خدشہ ہے کہ ہمارے جتنے لوگ مسنگ پرسنز میں ہیں ان ہی لاشوں میں ان کی لاشیں نہ ہوں، صرف دو آدمی جو جھاؤ سے ان کی شناخت ہوئی۔

ان کا کہنا تھاکہ میرے گھر کے 16 افراد لاپتہ ہوئے جو ابھی تک لاپتہ نہیں ہوئے، ایک بزرگ 70 سالہ جو میرے چچا اور 8 سال کا بچہ جو کہ میرا بھانجا ہے وہ بھی لاپتہ ہیں، ان لوگوں نے کیا کیا ہوگا، آٹھ سال کا بچہ کیا کرسکتا ہے۔ ہم ان لوگوں کی بازیابی کیلئے صرف دعائیں کرسکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اللہ سردار اختر مینگل کی عمر میں برکت دے، ہماری امید اللہ کے بعد اب ان ہی لوگوں سے ہے، جو طاقتور لوگ ہیں وہ نہ کمیشن کی بات مانیں گے نہ کسی اور کی، وہ اپنی من مانیاں کرتے رہیں گے۔ 2014میں جن دو افراد کی لاشیں برآمد ہوئی تھیں ان کے بھی ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ کو خراب کردیا گیا۔

Share This Article
Leave a Comment