طیبہ بلوچ کا لاپتا افراد کی بازیابی کیلئے دوبارہ سرگرم ہونیکا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

انسانی حقوق کی سرگرم کارکن اور بلوچ ہیومین رائٹس آرگنائزیشن کی سابقہ وائس چیئرپرسن طیبہ بلوچ نے اپنے والد کے قتل کے بعد لاپتا افراد کے حوالے سے دوبارہ سرگرم ہونے کا اعلان کیا ہے۔

اپنے والد کے قتل کے بعد گذشتہ روز انہوں نے ٹویٹر میں بلوچی زبان میں ٹویٹ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ ” میں دوبارہ لاپتا افراد اور انسانی حقوق کے لیے اپنی آواز بلند کرو¿ں گی۔“

انہوں نے جبری لاپتا کی بیٹی مقدس کے ساتھ اپنی ایک تصویر اپنے ٹویٹر اکاو¿نٹ پر دیتے ہوئے اس حوالے سے لکھا ہے کہ : میں نے سوچا تھا کہ میری آواز مقدس جیسے ہزاروں بچوں اور ان کے سرپرستوں کو آزادی دلوائے گی لیکن میرا اپنا سرد سایہ سورج نے ہڑپ لیا۔

واضح رہے کہ طیبہ بلوچ کے والد اور بلوچی زبان کے فن کار حنیف چمروک کو تربت میں ان کے میوزک کلب کے سامنے پاکستانی سیکورٹی فورسز کے پالے ہوئے دہشت گردوں نے گولی مار کر قتل کردیا۔

ان کے قتل کرنے والے دو افراد ایک موٹر سائیکل پر سوار تھے جنہوں نے چھ افراد کے درمیان ان کو ہدف بنا کر قتل کیا۔

ان کے قتل کے خلاف گزشتہ روز تربت میں سول سوسائٹی کی طرف سے شدید احتجاج کیا گیا۔احتجاج میں سول سوسائٹی تربت کے کنوینر گلزار دوست نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ : تربت کو اس کے نام کی طرح قبرستان بنا دیا گیا ہے ملک ناز قتل سے جو سلسلہ شروع ہوا تھا وہ رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا اگر آج ہم خاموش ہوئے تو کل ہمیں بھی قتل کردیا جائے گا۔

حنیف چمروک کے قتل کے بعد ان کے بھائی اور ساچان گرائمر اسکول کے پرنسپل حنیف ذاکر گھر پر بھی فائرنگ کی گئی۔

حنیف چمروک ایک غریب مزدور تھے جن کی کسی سے کوئی ذاتی دشمن نہیں تھی اس لیے ان کے والد کے قتل کو طیبہ بلوچ کی انسانی حقوق کے حوالے سے کیے جانے والی سرگرمیوں سے جوڑ کر دیکھا جارہا ہے۔

طیبہ بلوچ کو پاکستانی سیکورٹی فورسز کی طرف سے ماضی میں ان کی سرگرمیوں کی بنیاد پر دھمکی دی گئی تھی کہ اگر انہوں نے لاپتا افراد کے حوالے سے اپنی سرگرمیاں بند نہ کیں تو ان کے خاندان کو نقصان پہنچایا جائے گا اس کے بعد وہ بی ایچ آر او سے علیحدہ ہوئیں اور انہوں نے اپنی تمام سرگرمیوں سے بھی کنارہ کشی اختیار کی۔

Share This Article
Leave a Comment