بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف)کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں خضدار، نوشکی اور خاران میں پاکستانی فوج پر حملوں میں 2 اہلکاروں کی ہلاکت ، پولیس تھانے پر قبضہ اور کوئٹہ کراچی شاہراہ پر ناکہ بندی کی ذمہ داری قبول کرلی۔
ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ کے سرمچاروں نے 25 اپریل 2026 کو خضدار کے علاقے زاوہ میں دشمن کے فوجی قافلے کو اس وقت گھات لگا کر نشانہ بنایا جب وہ ایک کیمپ سے دوسرے کیمپ کی جانب جا رہا تھا۔ سرمچاروں نے پہلے سے نصب شدہ ریموٹ کنٹرولڈ آئی ای ڈی (IED) کے ذریعے زوردار دھماکہ کیا، جس کے نتیجے میں فوجی گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوگئی۔ اس حملے میں گاڑی میں سوار دو اہلکار موقع پر ہلاک اور دو شدید زخمی ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور کارروائی میں، سرمچاروں نے 24 اپریل 2026 کو نوشکی کے علاقے ملّ میں پولیس تھانے پر حملہ کر کے اس کا کنٹرول حاصل کر لیا اور وہاں موجود مواصلاتی آلات کو ناکارہ بنا دیا۔ پولیس اہلکاروں کو پہلے ہی تنبیہ کی گئی کہ وہ مزاحمت سے گریز کریں، تاہم ان کی جانب سے مزاحمت کرنے کی کوشش پر کارروائی کی گئی جس میں ایک پولیس اہلکار زخمی ہوا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح 24 اپریل 2026 کو سرمچاروں نے خاران شہر میں پاکستانی فوج کے ہیڈ کوارٹر کو حملے میں گرنیڈ لانچرز سے نشانہ بنایا۔ سرمچاروں نے یکے بعد دیگرے متعدد گولے داغے جو درستگی کے ساتھ اپنے ہدف پر لگے، جس کے نتیجے میں دشمن فوج کو جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑا۔
بیان میں کہا گیا کہ علاوہ ازیں، 23 اپریل 2026 کو بی ایل ایف کے سرمچاروں نے خضدار کے علاقے زاوہ کے مقام پر کوئٹہ-کراچی مرکزی شاہراہ پر مکمل ناکہ بندی کی۔ سرمچاروں نے مورچہ بند ہو کر تین گھنٹوں تک شاہراہ پر ہر قسم کی فوجی، و مشتبہ نقل و حرکت کی کڑی نگرانی اور اسنیپ چیکنگ کی۔ اس دوران گاڑیوں کی تلاشی لی گئی تاکہ سویلین مسافر گاڑیوں میں فوجیوں، مخبروں اور رسد لانے والے عناصر کو تلاش کی جا سکے۔ اس ناکہ بندی کا مقصد علاقے میں سرمچاروں کی عمل داری کو مضبوط کرنا تھا۔
آخر میں میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ بلوچستان لبریشن فرنٹ خضدار میں فوجی قافلے پر آئی ای ڈی حملے، نوشکی پولیس تھانے پر قبضے، خاران میں فوجی ہیڈ کوارٹر پر حملے اور خضدار میں ناکہ بندی کی ذمہ داری قبول کرتی ہے۔