ریاستی دبائو میں اضافہ، کوئٹہ اور تربت سے مزید 2 خاندانوں کا اپنے لاپتہ پیاروں سے لاتعلقی کا اعلان

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

ریاستی دبائو کے پیش نظر بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ اور تربت سےپاکستانی فورسز کے ہاتھوں جبری گمشدگی سے متاثرہ مزید دو خاندانوں نے اپنے لاپتہ پیاروں سے لاتعلقی کااعلان کیا ہے ۔

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی متعدد خاندانوں نے جو پہلے اپنے جبری لاپتہ پیاروں کے لئے سراپا احتجاج رہے تھے ، لاتعلقی کا اظہار کر چکے ہیں ۔

بلوچستان میں جبری لاپتہ افراد کے لواحقین پر ریاستی دباؤ اور زبردستی اظہارِ لاتعلقی کے واقعات میں حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

کوئٹہ کے یونیورسٹی کالونی کے رہائشی امیر بخش نے جمعہ کو کوئٹہ پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ میرا بیٹا کاشف 13 اپیل 2026ء کو گھر سے نکلا معلومات کرنے کے باوجود نہیں مل سکا اور یونیورسٹی آف بلوچستان کے تھانہ میں 21 اپریل 2022 کو اطلاعی رپورٹ درج کرائی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرمیرے بیٹے کا تعلق کسی مسلح تنظیم سے رہا تو میرا اور میرے بیٹوں اور دیگر رشتہ داروں کا اس سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

اسی طرح ضلع کیچ کے علاقے بلیدہ میناز کے رہائشی مختار ولد محمد عمر نے اپنے دیگر بھائیوں کے ہمراہ تربت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے اپنے بھائی عبدالرحیم ولد محمد عمر سے مکمل لاتعلقی کا اعلان کیا۔

انہوں نے کہا کہ ہمارا بھائی عبدالرحیم گزشتہ ایک سال سے لاپتہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر عبدالرحیم کسی بھی قسم کی منفی یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا جاتا ہے تو اس کی ذمہ داری خاندان پر عائد نہیں ہوگی اور نہ ہی ان کا اس سے کوئی تعلق ہے۔

بلوچستان میں جبری گمشدگیوں کے متاثرہ بعض خاندانوں کا کہنا ہے کہ انہیں سیکیورٹی اداروں اور حکومتی شخصیات کی جانب سے پریس کانفرنسوں کے ذریعے اپنے لاپتہ پیاروں سے لاتعلقی ظاہر کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

خاندانوں کے مطابق یہ دباؤ اس پالیسی کے تحت بڑھا ہے جس میں آزادی پسند مسلح تنظیموں سے تعلق کے شبے میں لواحقین کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔

متاثرہ خاندانوں نے بتایا کہ وہ پہلے ہی اپنے پیاروں کی جبری گمشدگی کے باعث ذہنی اذیت میں مبتلا تھے، تاہم اب انہیں زمین و جائیداد ضبط ہونے، سرکاری ملازمت سے برطرفی اور دیگر نتائج کی دھمکیوں کے باعث پریس کانفرنسوں میں اظہارِ لاتعلقی پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

سیاسی و سماجی اور انسانی حقوق تنظیموں کا کہنا ہے کہ ریاست جبری گمشدگی کے کیسز کو متنازع بنانے کے لئے متاثرہ خاندانوں کو اپنے جبری لاپتہ پیاروں سے اظہار لاتعلقی کروا رہا ہے تاکہ عالمی سطح پر ریاستی اداروں پر جبری گمشدگیوں میں ملوث ہونے کے تاثر کو زائل کیا جاسکے۔

Share This Article