ڈونلڈ ٹرمپ پرقاتلانہ حملہ، امریکی صدر محفوظ، حملہ آور پکڑا گیا

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

امریکی دارلحکومت واشنگٹن میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی موجودگی میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور پکڑا گیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق ہلٹن ہوٹل میں منعقدہ عشائیے کے دوران زور دارآواز سنی گئی، سکیورٹی خدشے کے باعث مختصر وقت کیلئے ہلچل مچ گئی۔اس دوران سیکریٹ سروس اہلکار صدر ٹرمپ کو تقریب سے باہر لے گئے۔

وائٹ ہاؤس کی کوریج پر مامور نمائندوں سے متعلق ڈنر کی تقریب کا آغاز ہی ہوا تھاکہ اس دوران صدر ٹرمپ کو ایک پرچی دکھائی گئی۔ ایسی ہی پرچی پہلے وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولائن لیویٹ کو بھی دکھائی گئی تھی۔ جس پر صدر ٹرمپ کے ایک جانب بیٹھی خاتون کو حیرت زدہ ہوتے دیکھا گیا۔

تقریب میں 2 ہزار 600 سے زائد افراد شر یک تھے ۔فائرنگ کے بعد تقریب کے شرکا میزوں کےنیچے چھپ گئے۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے عشائیے کے دوران فائرنگ، صدر ٹرمپ کو سکیورٹی اہلکاروں نے فوری باہر نکال لیا

تقریب میں موجود ایک سکیورٹی اہلکار کے مطابق سات سے آٹھ گولیاں چلنے کی اطلاعات ہیں۔

مشتبہ حملہ آور کے حوالے سے اطلاعات سامنے آئیں کہ اسے حراست میں لے لیا گیا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند لمحے قبل سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ حملہ آور کو ’گرفتار‘ کر لیا گیا۔

واقعہ کے بعدصدر ٹرمپ نے پریس بریفنگ روم میں کہا کہ ’میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اس سے زیادہ خطرناک کوئی اور پیشہ ہو۔‘

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے دوران سیکرٹ سروس کے ایک اہلکار کو گولی لگی ہے تاہم انھوں نے بلٹ پروف جیکٹ پہنی ہوئی تھی جس کی وجہ سے وہ محفوظ رہے۔

صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ حملہ آور کے پاس متعدد ہتھیار تھے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ ہوٹل محفوظ جگہ نہیں تھی اور اس ہی وجہ سے ہم وائٹ ہاؤس میں تعمیر کر رہے ہین۔

امریکی صدر کا کہنا ہے کہ تقریب دوبارہ منعقد کی جائے گی۔

صدر ترمپ کا کہنا ہے کہ انھوں نے حملہ آور کی تصویر اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ پر شیئر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد شفافیت برقرار رکھنا ہے۔

ٹرمپ اور ان کے قریبی حلقوں کا اس سے قبل بھی یہ ماننا ہے کہ بٹلر میں ہونے والا حملہ شاید امریکی صدر کے لیے سب سے زیادہ اہم تھا۔

اگرچہ اس واقعے کے محرکات اب بھی واضح نہیں لیکن آج کی رات کے واقعات بھی بظاہر ایک اور اہم واقعے کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔

صدر ٹرمپ کے اس مؤقف کہ یہ عہدہ اپنی نوعیت میں انتہائی خطرناک ہے کو آج کے حالات میں مناسب قرار دیا جا رہا ہے۔

آج کا یہ واقعہ اسی ہوٹل کے اندر پیش آیا جہاں 1981 میں اُس وقت کے صدر رونالڈ ریگن کو گولی مار کر زخمی کیا گیا تھا۔

Share This Article