بلوچستان کے ضلع خاران کے علاقے لجے میں آپریشن کے نام سے پاکستانی فوج کی جارحیت کی اطلاعات ہیں جہاں فورسز کی جانب سے آبادی پر مارٹرفائر کرنے سے خواتین و بچوں سمیت 4 افراد زخمی ہوگئے جن کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔
ذرائع کے مطابق آج صبح بروز ہفتہ فورسز نے متعدد گاڑیوں اور پیدل علاقے میں پیش قدمی کا آغاز کیا، جبکہ بڑی تعداد میں اہلکاروں کو مختلف مقامات پر تعینات ہوتے دیکھا گیا ہے۔
لجے کے علاقے شوآپ میں فورسز نے عام آبادی پر مارٹر گولے فائر کیئے جس کے نتیجے میں بی بی ذاکرہ، بی بی شفیقہ، حافظ طاہر اور ایک سالہ بچی نادیہ شدید زخمی ہوگئیں جبکہ دھماکے سے گھر کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ پورے علاقے کو فورسز نے گھیرے میں لے لیا جس کے باعث زخمیوں کو ہسپتال منتقل کرنے میں بھی دشواری کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔
اطلاعات کے مطابق لجے کے مختلف علاقے کو فورسز نے مکمل طور پر گھیرے میں لے لیا ہے، کواڈ کاپٹر اور ڈرون طیاروں کی پروازیں بھی دیکھنے میں آئی ہے جبکہ فورسز مختلف اطراف مسلسل مارٹر گولے فائر کررہے ہیں۔
حکام نے تاحال اس حوالے سے کوئی موقف پیش نہیں کیا ہے۔