بلوچ یکجہتی کمیٹی (BYC) نے شدید تشویش کے ساتھ کہا ہے کہ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، دھمکیوں اور ماورائے عدالت تشدد کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔
جاری بیان میں کہا گیا کہ 12 اپریل 2026 کو خضدار کے نال تحصیل کے رہائشی اور ایف ایس سی کے طالب علم معراج ولد اللہ بخش کو کوئٹہ کے گرین پلازہ، چلڈرن اسپتال کے قریب شام 8 بجے کے قریب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (CTD) کے اہلکاروں نے جبری طور پر لاپتہ کر دیا۔
بیان کے مطابق اس سے قبل معراج کو ایف آئی آر نمبر 67/25 کے تحت پولیس نے گرفتار کیا تھا۔ ضمانت ملنے کے باوجود انہیں MPO کے تحت BYC رہنماؤں کے ساتھ حراست میں رکھا گیا اور بعد ازاں 20 اپریل 2025 کو رہا کیا گیا۔ قانونی تقاضے پورے کرنے اور عدالت میں پیش ہونے کے باوجود انہیں دوبارہ جبری طور پر لاپتہ کر دیا گیا۔
ترجمان نے کہا کہ 23 اپریل کو ہدہ جیل میں مقدمے کی سماعت کے دوران ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر BYC رہنماؤں نے احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ معراج کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ وکلاء نے بھی اس مطالبے کی حمایت کی اور جج سے اپیل کی کہ اعلیٰ حکام پر دباؤ ڈال کر جبری گمشدگیوں کا سلسلہ ختم کیا جائے۔
تنظیم کے مطابق یہ واقعہ اس تلخ حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ قانون کی پاسداری کرنے والے اور عدالتوں میں پیش ہونے والے افراد بھی محفوظ نہیں ہیں۔ معراج پر کوئی جرم ثابت نہیں ہوا، کوئی باضابطہ الزام قائم نہیں کیا گیا، لیکن وہ اب بھی تشدد کے سیل میں قید ہیں جبکہ BYC رہنما بھی حراست میں ہیں۔
بی وائی سی نے کہا کہ اب صرف مرد ہی نہیں بلکہ خواتین بھی بغیر کسی الزام یا قانونی جواز کے اغوا کی جا رہی ہیں، جو نہایت تشویشناک ہے۔ بلوچستان میں جبری گمشدگیوں، ٹارگٹ کلنگز اور ماورائے عدالت قتل کے واقعات روز بروز بڑھ رہے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ متحد ہو کر پرامن احتجاج میں شامل ہوں اور ان مظلوموں کی آواز بنیں۔
بی وائی سی نے قومی و بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے فوری نوٹس لینے اور بلوچستان میں بگڑتی صورتحال کو روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔