بلوچستان کے ساحلی علاقے پسنی اور وڈھ میں پاکستانی فوج پر دو مختلف حملوں میں ہلاکتوں کی اطلاعات سامنے آرہی ہیں جبکہ زیارت میں ایک ڈرون حملے سے ایک چرواہا ہلاک ہوگیا۔
مقامی ذرائع کے مطابق ضلع زیارت کے علاقے انزر گی میں ایک ڈرون حملے کے نتیجے میں ایک چرواہا ہلاک جبکہ دیگر دو افراد شدید زخمی ہو گئے ہیں۔
علاقائی مکینوں کے مطابق ڈرون حملے کے بعد ہلاک ہونے والے چرواہے کی لاش تاحال پہاڑوں میں موجود ہے اور اسے برآمد کرنے کے لیے انتظامیہ کی جانب سے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔
دوسری جانب ضلع خضدار کی تحصیل وڈھ کے علاقے کرارو میں نامعلوم مسلح افراد نے پاکستانی فوج کے ایک قافلے کو نشانہ بنایا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق مسلح حملے میں فورسز کو جانی و مالی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں، تاہم حتمی تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکی ہیں۔
اسی طرح ایک اور واقعے میں ضلع گوادر کی تحصیل پسنی کے علاقے شادی کور میں پاکستانی فوج کی ایک گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی (بم) سے نشانہ بنایا گیا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق دھماکے کے نتیجے میں گاڑی کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کئی اہلکاروں کے ہلاک و زخمی ہونے کا خدشہ ہے، تاہم واقعے کی نوعیت اور نقصانات کی حتمی تصدیق کا انتظار ہے۔
پاکستانی فوج پر ان حملوں کی ذمہ داری تاحال کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔