فرانس میں پُرتشدد مظاہرے پھر بھڑک اٹھے، 5 لاکھ سے زائد کا احتجاج، 1200 افراد گرفتار

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

فرانس میں سنیچر کے روز سکولوں میں مشکلات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف پُرتشدد مظاہرے ہوئے ہیں۔ فرانسیسی حکومت کے مطابق تقریباً 5 لاکھ 50 ہزار افراد سڑکوں پر نکلے جبکہ کم از کم 1200 افراد کو گرفتار کیا گیا۔

پیرس میں شام کو پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں دیکھی گئیں اور پولیس نے ہجوم کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا۔ دارالحکومت اور دیگر علاقوں میں کئی عمارتیں نذر آتش کی گئیں۔ کئی شہروں میں لوٹ مار کے واقعات پیش آئے۔ سٹی ہالز اور کاروباری اداروں کو نشانہ بنانے سے متعلق توڑ پھوڑ کی اطلاعات بھی موصول ہوئیں۔

فرانسیسی وزیرِ اعظم نے کہا ہے کہ بدامنی کے دوران 150 پولیس اہلکار زخمی ہوئے ہیں۔

پیرس میں مرکزی مارچ دوپہر کے وقت بڑی حد تک پُرامن دکھائی دیا۔ نوجوانوں کے ایک گروپ نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ ’امن پسند‘ ہیں اور ’صرف چیزوں کو تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ لیکن کچھ بھی آگے نہیں بڑھ رہا۔‘

تاہم دن گزرنے کے ساتھ کچھ گروہوں نے سڑکوں پر گاڑیوں کو نذرِ آتش کیا۔ دکانوں میں لوٹ مار کی گئی اور کم از کم ایک ریستوران آگ لگنے سے تباہ ہو گیا۔ بی بی سی نے بعض گروہوں کے درمیان جھڑپیں بھی دیکھیں۔

پولیس کو وسطی پیرس میں ایک ہجوم پر دھاوا بولتے اور متعدد افراد کو لاٹھیوں سے مارتے ہوئے بھی دیکھا گیا۔

حالیہ ہفتوں کے دوران لاکھوں طلبہ نے ملک کے سکولوں میں عملے اور سہولیات کی کمی کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ سنیچر کے روز ٹریڈ یونین کے ارکان اور دیگر احتجاجی گروہوں کی شرکت سے ان کی تعداد میں اضافہ ہوا۔

ان گروہوں میں نام نہاد ’ییلو ویسٹ‘ تحریک بھی شامل ہے، جس نے 2018 کے دوران ایک سال سے زیادہ عرصے تک بڑھتی ہوئی مہنگائی کے خلاف مظاہرے کیے تھے۔ یہ فرانس کی تاریخ کی طویل ترین احتجاجی تحریکوں میں سے ایک بن گئی تھی۔

اگرچہ فرانس احتجاج اور بدامنی کے واقعات کے لیے کوئی اجنبی ملک نہیں، تاہم احتجاج کا یہ سلسلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملک شدید سیاسی غیر یقینی کی ایک مدت کی طرف بڑھ رہا ہے۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article