پسنی میں اسکول ٹیچر کا ماورائے عدالت قتل بلوچ علمی و تعلیمی نسل کشی کا تسلسل ہے،بی وائی سی

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) نے پسنی میں اسکول ٹیچرپرویز مزاربلوچ کے ماورائے عدالت قتل کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اسے بلوچستان میں جاری بلوچ Scholasticide(علمی و تعلیمی نسل کشی) کا تسلسل قرار دیا ہے۔

انہو ں نے کہا کہ تربت کے علاقے پیدراک سے تعلق رکھنے والے استاد ملا پرویز (ولد مزار بلوچ) کو 13 اکتوبر 2026 کی صبح سویرے پسنی کے مین بازار سے ریاستی حمایت یافتہ ڈیتھ اسکواڈ نے جبری طور پر لاپتہ کیا تھا۔ اگلے ہی روز، 14 اکتوبر کو، ان کی مسخ شدہ لاش پسنی کے علاقے داروبند سے برآمد ہوئی۔

بیان میں کہا گیا کہ 16 اکتوبر کو استاد پرویز کے مسن والد اور لواحقین نے پسنی پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور اپنے پیارے کے دردناک اور ماورائے عدالت قتل کے خلاف انصاف کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں بلوچوں کا قتل عام اور خاندانوں کو طویل اذیت میں مبتلا کرنا ایک خوفناک اور روزمرہ کا معمول بن چکا ہے، جبکہ قاتل دندناتے پھر رہے ہیں۔

بی وائی سی کے ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ ایک استاد کو نشانہ بنانا نہ صرف بلوچ شہریوں کی عدم تحفظ کو ظاہر کرتا ہے بلکہ اس سے یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ ایک منظم پالیسی کے تحت بلوچستان کے اساتذہ، طلباء اور تعلیمی ماحول کو خوف و ہراس کی زد میں لا کر تباہ کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے آئینی و قانونی نظام کے تحت انصاف کے تمام دروازے بند ہو چکے ہیں۔

بی وائی سی نے عالمی انسانی حقوق کی تنظیموں، تعلیمی اداروں اور اقوام متحدہ کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ بلوچستان میں جاری انسانی حقوق کی شدید پامالیوں، ماورائے عدالت قتل اور اساتذہ کے قتلِ عام کا فوری نوٹس لیں اور پاکستان سے ان مظالم کا حساب لیں۔ بی وائی سی نے واضح کیا کہ کسی بھی معاشرے میں اساتذہ اور علم سے وابستہ افراد کی اس طرح بے رحمانہ کشی پر خاموشی اختیار نہیں کی جا سکتی، تمام متاثرہ خاندانوں کو انصاف کی فراہم تک جدوجہد جاری رہے گی۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article