کمبر خان مینگل کے ٹھکانے پر ہونے والے حملے سے بی ایل ایف کا کوئی تعلق نہیں ، میجرگہرام بلوچ

ایڈمن
ایڈمن
7 Min Read

بلوچستان لبریشن فرنٹ( بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے میڈیا کو جاری بیان میں کہا ہے کہ کمبر خان مینگل کے ٹھکانے پر ہونے والے حملے سے بلوچستان لبریشن فرنٹ کا کوئی تعلق یا واسطہ نہیں ہے۔ بی ایل اے (آزاد) کا ہماری تنظیم کے نام اور پرچم کو غیر مجاز طریقے سے استعمال کرنا غیراخلاقی عمل ہے۔

ترجمان کے مطابق بلوچستان لبریشن فرنٹ ایک باقاعدہ سیاسی اور عسکری تنظیم ہے جس کی بنیاد قوم کی انقلابی طاقت، عوامی قیادت، واضح فکر، اور نظریاتی سرمچاروں کی مضبوط صفوں پر استوار ہے۔ ہماری تنظیمی ساخت اپنے سرمچاروں کو ایک منظم اور مربوط چین آف کمانڈ کا پابند بناتی ہے۔ ہماری تنظیم کے متعین کردہ سیاسی اور عسکری اہداف روزِ روشن کی طرح عیاں ہیں جن کے حصول کے لیے تنظیم نہ صرف بھرپور قوت رکھتی ہے بلکہ کسی بھی مورچے پر اپنے مشنز کو احسن طریقے سے پایہ تکمیل تک پہنچانے کی صلاحیت سے بھی لیس ہے۔ ہم نے تحریکِ آزادی کے اجتماعی مفاد میں ہمیشہ دیگر آزادی پسند قوتوں کو یکجا کرنے، اتحاد کی فضا قائم کرنے اور آزادی کی تحریک و جنگ کو کامیابی سے ہم کنار کرنے کے لیے تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لاتے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ دنوں دشت گوران میں بی ایل اے (آزاد) کے سرکش، بے لگام اور ذاتی و گروہی مفادات کے اسیر کمانڈروں نے کمبر خان مینگل کے ٹھکانے پر حملے میں ہمارے تنظیمی پرچم کو غیر اخلاقی اور غیر مجاز طور پر استعمال کر کے اپنی گھناؤنی ذہنیت کا کھلا ثبوت دیا ہے۔ ہم واضح کرتے ہیں کہ کمبر خان مینگل پر حملے سے بی ایل ایف کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ بی ایل اے (آزاد) سے وابستہ عناصر نے اس سے قبل بھی بھتہ خوری، چوری اور ڈکیتی، علاقائی معتبرین اور قوم کو دھمکانے جیسے مکروہ جرائم کے دوران بھی ہماری تنظیم کے نام کو استعمال کرکے تنظیم کو بدنام کرنے کی کوشش کی تھی۔ اس وقت قومی صفوں میں نااتفاقی اور انتشار کا تاثر نہ دینے کی مصلحت کے پیشِ نظر ہم نے فوری بیان بازی سے گریز کیا تھا لیکن بی ایل اے آزاد کے ان غیر ذمہ دار گروہوں کی مجرمانہ سرگرمیاں اب اس حد تک بڑھ چکی ہیں کہ مزید خاموشی قومی تحریک کے مفادات کے منافی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ مزید برآں تاریخ اس بات کی بھی گواہ ہے کہ اس غیر ذمہ دار اور سرکش گروہ نے ماضی میں بھی ہمارے سچے، مخلص اور نظریاتی کارکنان کو ناحق شہید کیا ہے۔ ان سنگین قومی و تنظیمی جرائم کے ارتکاب پر یہ عناصر آج بھی بلوچ قوم اور قومی عدالت کے سامنے باقاعدہ مفرور مجرم کی حیثیت رکھتے ہیں۔ بلوچستان لبریشن فرنٹ کی جانب سے قومی مفادات، قومی وحدت اور تحریکِ آزادی کے وسیع تر مقاصد کی خاطر اختیار کی گئی صابرانہ خاموشی اور عدمِ تصادم کی پالیسی کو یہ عناصر ہرگز ہماری کمزوری نہ سمجھیں۔ بی ایل ایف واضح کرتی ہے کہ قومی سرمائے، شہدا کے خون اور تنظیم کے وقار کا سودا کرنے والے ایسے تمام عناصر اور ان جیسے ہر بزدل گروہ کا احتساب کیا جائے گا اور انہیں قوم کے سامنے جوابدہ بنایا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ ہم یہ بات واشگاف الفاظ میں واضح کرتے ہیں کہ کسی بھی گروہ یا تنظیم کو یہ اخلاقی یا قانونی حق حاصل نہیں ہے کہ وہ ہمارے تنظیم کا نام اور مقدس پرچم کو خوف پھیلانے اور اپنے گروہی مفادات و مجرمانہ کارروائیوں کے لیے استعمال کرے۔ بی ایل اے (آزاد) جیسی تنظیم جو سراسر گروہی سوچ، شخصیت پرستی اور فرسودہ سرداری ڈھانچے کو پروان چڑھانے پر مبنی ہے، وہ اپنے ایسے اوچھے حرکتوں سے اپنی عوامی نمائندگی اور اجتماعی جدوجہد کے کھوکھلے دعوئوں پر انتہائی سنجیدہ نوعیت کے سوالات کھڑے کرتی ہے۔ ہمارا پرچم کسی فرد، گروہ یا نام نہاد تنظیم کی ملکیت نہیں ہے بلکہ یہ ہماری اجتماعی قومی شناخت، اصولوں، قربانیوں اور آزادی کی جدوجہد کی سب سے بڑی علامت ہے۔

میجر گہرام بلوچ نے کہا کہ بلوچ قوم کسی بھی نام نہاد تنظیم کی جانب سے ہمارے پرچم کے استعمال کو ہماری حمایت یا منظوری ہرگز نہ سمجھے۔ ہم اپنی واضح اور اٹل پالیسی کے تحت اپنے سیاسی اور عسکری سفر کو وسعت دے رہے ہیں۔ کسی بھی خود ساختہ گروہ کو یہ حق نہیں کہ وہ ہمارے نام یا پرچم کو استعمال کرے۔ ہماری سیاسی نمائندگی کا فیصلہ ہمارے اصولی مؤقف اور میدانِ عمل کے فیصلے کرتے ہیں۔

تنظیم کا کہنا تھا کہ ہم ان تمام غیر ذمہ دار عناصر کی مکمل نشاندہی، ادراک اور بھرپور طاقت کے ساتھ احتساب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس گروہ کی جانب سے عامتہ الناس پر کی جانے والی دھونس، دباؤ، جبر، اور تشدد کی تمام شکایات ہمارے سامنے ہیں۔ ہم ان کی ہر قسم کے دھونس، تخریب کاری اور گروہی اجارہ داری کے خلاف اپنے اصولی، انقلابی اور نظریاتی مؤقف پر ڈٹے رہیں گے اور اپنی تنظیم کے وقار، نام اور حرمت کا ہر قیمت پر دفاع کریں گے۔ہمارا پرچم تشدد، خوف اور سرداریت کی علامت نہیں بلکہ قومی مزاحمت کا استعارہ ہے۔ اسے ڈھال بنا کر کسی پر بھی حملے کرنے والے عناصر کبھی بھی ہمارے پرچم کی اصل نمائندگی نہیں کر سکتے۔ ہم اپنے پرچم کے تقدس، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور اجتماعی اصولوں کی پاسداری کے لیے اپنے اس مؤقف کو پوری سیاسی بصیرت اور وضاحت کے ساتھ قوم کے سامنے پیش کرتے ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article