انڈین ریاست مغربی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ شوبھندو ادھیکاری نے کہا ہے کہ کولکتہ میں درگا پوجا کے دوران بھگدڑ مچنے کے نتیجے میں کم از کم 17 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 25 دیگر افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے ایک کی حالت تشویشناک ہے۔
کولکتہ پولیس کی جانب سے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق 17 اکتوبر کو شام تقریباً 7:40 بجے کولکتہ کے گریش پارک پولیس سٹیشن کے علاقے میں ہونے والی درگا پوجا کے خارجی دروازے پر بھگدڑ مچ گئی تھی۔
پولیس ذرائع کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں کی شناخت کی کوششیں جاری ہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سے بہت سے لوگ پوجا میں شرکت کے لیے کولکتہ سے باہر مختلف اضلاع سے آئے تھے۔
واقعے کے مقام کے قریب ایک عمارت سے ریکارڈ کی گئی ایک ویڈیو کو سوشل میڈیا پر متعدد افراد شیئر کر رہے ہیں، جن میں ترنمول کانگریس کے رہنما کنال گھوش بھی شامل ہیں۔
ویڈیو کچھ دھندلی ہے لیکن اس میں کئی افراد زمین پر پڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں اور چیخ و پکار کی آوازیں سنی جا سکتی ہیں۔
پولیس نے درگا پوجا کے پنڈال کو سیل کر دیا ہے۔ واقعے کے بعد پنڈال میں کمیٹی کا کوئی رکن نظر نہیں آیا۔
پولیس ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ کولکتہ کی تین دیگر بڑی اور معروف پوجاؤں کو بھی زائرین کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
عینی شاہدین کے مطابق شام کے وقت چورباغان سروجنین منڈپ پر ہزاروں افراد جمع تھے۔ جب شام تقریباً 7:30 بجے شدید بارش شروع ہوئی تو بہت سے لوگ تنگ گلیوں اور راستوں کے درمیان واقع پوجا منڈپ کے اندر پناہ لینے کے لیے دوڑ پڑے۔
دوسری جانب پنڈال کے اندر موجود افراد باہر نکلنے سے قاصر تھے۔ بارش میں باہر پھنسے افراد بھی اندر داخل ہونے کے لیے دھکم پیل کرنے لگے۔ نتیجتاً عارضی سیڑھیوں پر بھگدڑ کے دوران لوگ ایک دوسرے کے اوپر گر گئے۔
پنڈال میں درگا کا مجسمہ ایک لوہے کے ڈھانچے کے نیچے رکھا گیا تھا۔ اس بات کی تحقیقات کی جا رہی ہیں کہ آیا اس ڈھانچے کا کوئی حصہ گر گیا تھا۔
اب تک عینی شاہدین سے موصول ہونے والی معلومات کے مطابق پورا واقعہ ممکنہ طور پر پانچ سے سات منٹ کے اندر پیش آیا۔
واقعے کے بعد انڈین وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بھی ایکس پر تعزیت کا اظہار کیا۔
ان کے دفتر نے ایکس پر اپنے ہینڈل کے ذریعے اطلاع دی ہے کہ اس واقعے میں ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کو وزیرِ اعظم کے قومی امدادی فنڈ سے فی کس دو لاکھ روپے جبکہ زخمی ہونے والوں کو فی کس 50 ہزار روپے دیے جائیں گے۔