بلوچستان ایران سرحدی تجارت کی بندش، تاجروں کا حکومتی اقدام کے خلاف شدید احتجاج

ایڈمن
ایڈمن
4 Min Read

بلوچستان اور ایران کے درمیان سرحدی گزرگاہوں سے سینیچر کے روز تجارتی سرگرمیاں معطل رہیں۔

بلوچستان کی تاجر برادری نے اس پیش رفت پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے پاکستانی تاجروں اور عوام کو نقصان ہوگا۔ دوسری جانب بلوچستان حکومت کا کہنا ہے کہ سرحدی بندش عارضی ہے اور اس کا مقصد بارڈر مینجمنٹ کو بہتر بنانا ہے۔

بلوچستان کے ساحلی ضلع گوادر میں ایران اور پاکستان کے درمیان گبد ریمدان سرحدی گزرگاہ سے تجارت ہوتی ہے۔

گبد ریمدان بارڈر سے پاکستانی تاجروں کی تنظیم کے چیئرمین عبدالغفور ہوت نے بتایا کہ سینیچر کو پاکستانی حکام کی جانب سے تجارتی سرگرمیاں بند کردی گئیں۔

انھوں نے کہا کہ اس سے پاکستانی تاجروں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ روزانہ کی بنیاد صرف اس بارڈر سے پانچ سو گاڑیاں ایران سے سامان لیکر آتی ہیں جبکہ اتنی ہی تعداد میں گاڑیاں پاکستانی سامان لیکر ایران جاتی ہیں۔

عبدالغفور ہوت نے اس حوالے سے پاکستانی اور ایرانی حکام کی جانب سے جاری کیے گئے دو نوٹیفیکیشنز شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ایران کی جانب سے کہا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی تجارتی سرگرمیوں پر ایران کی جانب سے کوئی پابندی نہیں۔

ان کے مطابق کسٹمز کے حکام سے رابطہ کرنے پر انھیں بتایا گیا ہے کہ یہ پابندی مستقل نہیں بلکہ عارضی ہے۔

عبدالغفور ہوت کا کہنا ہے کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ بعض تیکنیکی وجوہات کے باعث عارضی طور پر تجارتی سرگرمیاں معطل کی گئی ہیں تاہم سوموار تک اس سلسلے میں صورتحال واضح ہوجائے گی۔

تاجر رہنما کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان تجارت کی بندش سے پاکستانی تاجروں اور عوام کا بہت نقصان ہوگا اس لیے سرحدی تجارت کو معطل یا بند نہیں ہونا چائیے۔

کٹھ پتلی وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون برائے اطلاعات شاہد رند کا کہنا ہے کہ پاک ایران بارڈر کی بندش عارضی ہے اور اس کا مقصد سکیورٹی خدشات کا ازالہ، سمگلنگ کی روک تھام اور سرحدی نظام کو مؤثر بنانا ہے۔

شاہد رند کا کہنا ہے کہ سرحد کے دونوں اطراف سکیورٹی صورتحال اور انتظامی امور کو بہتر بنانے کے لیے عارضی بندش ضروری تھی۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان کے معاون کا کہنا ہے کہ پاک ایران بارڈر سے متعلق انتظامی مسائل کے حل کے لیے دونوں ممالک کے اعلیٰ حکام کے درمیان مثبت پیش رفت جاری ہے اوراس تناظر میں سرحد جلد کھلنے کا امکان ہے۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ بارڈر مینجمنٹ کو مؤثر بنانے سے سرحدی علاقوں میں بدامنی پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔

اس سے قبل بلوچستان کے سرحدی اضلاع سے تعلق رکھنے والے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تجارتی سرگرمیاں سینیچر کو صرف گوادر سے نہیں بلکہ تمام اضلاع کی سرحدی گزرگاہوں سے معطل رہیں۔

ضلع چاغی میں تفتان بارڈر سے دونوں ممالک کے درمیان بڑے پیمانے سرحدی تجارتی سرگرمیاں ہوتی ہیں۔

چاغی کے ڈپٹی کمشنر نے سماجی رابطے ویب سائٹ ایکس پر اپنے ایک بیان میں کہا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان سرحد کی بندش عارضی ہے جس کا مقصد بارڈر مینجمنٹ کو بہتر بنا کر انسداد دہشت گردی کی کاوشوں کو مؤثر بنانا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جونہی مؤثر اقدامات مکمل ہوجائیں گے تو سرحد کو دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article