افغانستان اور پاکستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں کی اطلاعات

ایڈمن
ایڈمن
3 Min Read

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحد پر جھڑپوں کی اطلاعات ہیں اور دونوں کی طرف سے متضاد دعوے کیے جا رہے ہیں۔

افغانستان کے سرکاری خبر رساں ادارے باختر کے مطابق اطلاعات ہیں کہ صوبہ پکتیا میں کئی گھنٹوں تک افغان سکیورٹی فورسز اور پاکستانی فورسز کے درمیان لڑائی جاری رہی۔

باختر نے طالبان کے حکومتی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے سات پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا جس کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

اس سے قبل ریڈیو پاکستان نے سکیورٹی ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا کے علاقے اپر کرم میں ’پاکستانی فوج نے افغان طالبان حکومت کی فورسز کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ کا موثر جواب دیا۔‘

ریڈیو پاکستان کے مطابق ’پاکستانی فوج کی بھرپور جوابی کارروائی میں افغان طالبان کی کئی چوکیاں تباہ کر دی گئی ہیں جس کے نتیجے میں طالبان حکومت کے اہلکار اپنی پوزیشنز چھوڑ کر فرار ہونے پر مجبور ہوئے۔‘

طالبان حکومت کے سکیورٹی ذرائع نے بی بی سی پشتو سروس کو بتایا کہ اس کے فوجیوں اور سرحدی محافظوں کی پاکستانی فورسز کے ساتھ جھڑپ ہوئی ہے۔ بی بی سی پشتو کو بھیجی گئی ایک ویڈیو میں طالبان حکومت کی فورسز کو سرحد پار پاکستانی فورسز کے خلاف راکٹ اور توپ استعمال کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کشیدگی کے باعث تجارتی راستے ایک سال سے بند ہیں۔ اکتوبر سنہ 2025 میں دونوں ملکوں کے درمیان مسلح جھڑپوں اور حملوں کے بعد پاکستان نے افغانستان کے ساتھ تمام تجارتی راستے بند کر دیے تھے۔

یکم اکتوبر 2026 کو پاکستان کی حکومت نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کی افواج نے ’مصدقہ انٹیلی جنس اطلاعات‘ کی بنیاد پر افغانستان میں دو مقامات پر مبینہ شدت پسندوں کے ٹھکانوں کو کامیابی سے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں 22 شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔ تاہم افغان طالبان حکام نے پاکستانی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ افغان صوبوں کنٹر اور ہلمند میں عام شہریوں کے گھروں پر کی گئی بمباری کے نتیجے میں عورتوں اور بچوں سمیت نو افغان شہری ہلاک جبکہ 11 زخمی ہوئے ہیں۔

سنگر نیوز واٹس ایپ چینل بلوچستان کی تازہ ترین، موثق اور لمحہ بہ لمحہ خبروں سے باخبر رہنے کے لیے ہمارے واٹس ایپ چینل کو فالو کیجیے۔
Share This Article